سرینگر //21مارچ کوجنگلات کا عالمی دن تھا۔ ماہرین نے جنگلات کو انسانیت کے فائدہ اور بقا کیلئے انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی ہیت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور کشمیر میں2014سے بھی بڑا سیلاب آئے گا۔ جموں وکشمیر میں جنگلات کا کل رقبہ 20,230مربع کلو میٹر ہے جس میں سے کشمیر میں 8128 اور جموں میں 12066 کلو میٹر رقبہ ہے۔ لداخ میں صرف 36کلو میٹر جنگلاتی رقبہ ہے ۔لیکن یہ سرسبز سونابے رحم ہاتھوں کی نذر ہو چکا ہے۔ کبھی تعمیراتی پروجیکٹوں کے نام پر اس کا بے دردی سے صفایا ہو رہا ہے تو کبھی آگ سے متاثر ہو رہا ہے اتنا ہی نہیں اس کا صفایا کرنے میں لوگوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ سال 215آگ کی وارداتیں پیش آئیں اور دس برسوں میں 4600واقعات پیش آئے ۔ذرائع نے بتایا کہ سالانہ اوسطاً1273ہیکٹر اراضی آگ کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے ۔صرف آگ کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ کشمیر کے کئی ایک بڑے پروجیکٹوں کے نام پر جنگلات کی قربانی دے کر اس کا صفایا کیا جا رہا ہے ۔کشمیر میں سانبہ امر گڑھ ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے دوران قریب 11ہزار درختوں کا صفایا کیا گیااور اب زوجیلا اور زیڈ موڑ سرنگوں کی تعمیر کے دوران بھی کم سے کم 10ہزار پیڑ پودوں کو کاٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں یہی نہیں بلکہ کئی سال قبل بیکن حکام نے بنگس درنگیاری سڑک کی تعمیر کے دوران بھی بڑے پیمانے پر جنگلات کو نقصان پہنچا یا تھا۔جموں سرینگر شاہراہ کی تعمیر کے دوران بھی سینکڑوں درختوں کا صفایا ہوا ہے، اس طرح کوئی بھی نئے پروجیکٹ یہاں شروع کرنے سے قبل اس چیز کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس چیز کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا کہ جنگلات کے کٹائو سے ماحولیات پر کتنا اثر پڑسکتا ہے ۔ حکام کی جانب سے غلط اور بے ڈھنکی منصوبہ بندی کا حال یہ ہے کہ گذشتہ 30برسوں سے سمگلروں نے بھی اس کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔محکمہ جنگلات یہ دلیل دے رہا ہے کہ سال-20 2019میں انہوں نے 25سمگلروں کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 16000مکعب فٹ لکڑی اور 50گاڑیاں ضبط کی لیکن جنگلات کے تحفظ کیلئے یہ کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ اس کیلئے محکمہ جنگلات کو سخت قانون پاس کرنے ہوں گے تاکہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے ۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے ماہر پروفیسر شکیل رامشو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جہاں جنگلات کا تحفظ کیا جانا تھا، وہاں تحفظ کے بجائے اس کا بے دردی کے ساتھ صفایا کیا گیا ۔شکیل رامشو نے کہا کہ جتنے بھی بجلی پروجیکٹ بنے یا پھر سڑک پروجیکٹ، ان کی تعمیر کے دوران جنگلات کا صفایا بے درری سے کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن ایک ایسا دن ہے جس دن ہم لوگوں کو جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے جانکاری دے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سال2014کا سیلاب صرف جنگلات کے کٹائو کی وجہ سے آیا اور آج دیکھا جا رہا ہے کہ جب بھی کبھی سیلاب آتا ہے تو پانی کے ساتھ مٹی جمع ہو جاتی ہے کیونکہ پہلے جنگلات تھے اور بارشوں کا پانی جنگلات میں لگے درخت اور جھاڑیاں جذب کر لیتی تھیں اور پانی آہستہ آہستہ نیچے آتا تھا لیکن اب پانی مٹی کے ساتھ آتا ہے جس سے نقصان ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اربن پلاننگ میں اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے پرشور مقامات جیسے فیکٹریوں اور کارخانوں کے قریب زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں کیونکہ ایک دیودار کا درخت لوگوں کو سال بھر آکسیجن فراہم کرتا ہے اور اس کی قیمت بھی انمول ہے جو کوئی خرید نہیں سکتا ہے ۔محکمہ ڈزاسٹر منیجمنٹ کے ڈائریکٹر عامر علی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں ہر ایک فرد کو سال میں ایک سے تین درخت لگانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ درخت لگانا آسان ہے پھر اس کی حفاظت بھی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی اصل وجہ جنگلات کا کٹائو ہے ۔عامر علی نے کہاکہ تعمیراتی پروجیکٹوں کی ضرورت تو ہے اور اس کیلئے درخت بھی کٹ جاتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ دس درخت لگائیں ۔ انہوں نے چنار اور اخروٹ کے درختوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بے تحاشہ ان کا صفایا ہو رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ باہر کے ممالک میں چنار کے درخت تو نہیں ہیںلیکن پھر بھی وہ سڑک کے بیچ آنے والے درختوں کی حفاظت کر کے سڑکوں کارخ دوسری طرف موڑ دیتے ہیں لیکن یہاں اگر ہمیں سڑک پروجیکٹ کے بیچ میں کوئی درخت آتاہے، ہم اس کو کاٹ دیتے ہیں لہٰذا ہمیں اس چیز کی طرف خصوصی دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے جب محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر سے بات کرناچاہی تو انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت گوارانہیں کی ،البتہ محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس سال محکمہ نے 26لاکھ سے زیادہ پودوںکی شجرکاری کا ہدف مقرر کیاہے اور اس میں سے ابھی تک لاکھوں پودے لگائے بھی جا چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے جانکاریاں فراہم کی جا رہی ہیں ۔