یواین آئی
نئی دہلی// کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مدھیہ پردیش بی جے پی حکومت کے دورِ اقتدار میں بدعنوانی اور لوٹ پاٹ کا بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست آج بدعنوانی کا مرکز بن گئی ہے اور ایک کے بعد ایک گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اب ایتھنول کے نام پر 1,200 کروڑ روپے کے چاول گھوٹالے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریاست میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں، حاملہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی غذائیت کے لیے مقررہ قریب پانچ لاکھ ٹن چاول کو رائس ملرز، ایتھنول تاجروں اور سرکاری سرپرستی میں مبینہ بدعنوانی کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اجین میں زمینوں سے جڑا بڑا گھوٹالہ سامنے آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر انہیں علاقوں میں زمینوں کی توسیع ہوئی، جہاں سرکاری انفراسٹرکچر پروجیکٹ اور ہائی وے کوریڈور کی تجویز تھی۔ ریاستی حکومت کا کردار اس معاملے میں سوالوں کے گھیرے میں ہے۔کانگریس صدر نے کہا کہ ویاپم گھوٹالے سے شروع ہوئی بدعنوانی کا یہ سلسلہ آج تک نہیں تھما ہے اور پیپر لیک سمیت متعدد معاملات نے ریاست کے تشخص کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے مدھیہ پردیش کو بدعنوانی کا ماڈل بنا دیا ہے اور وزیر اعظم کی خاموشی جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔