اشتیاق ملک
ڈوڈہ //بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی ،ماہانہ فیس میں اضافہ، منریگا حاضری میں چہرہ شناختی عمل و دیگر عوامی مسائل کو لے کر ڈوڈہ ضلع کی سب ڈویژن گندوہ میں سیول سوسائٹی نے احتجاج کیا۔ اس دوران انہوں نے حکام کی عدم توجہی و متعلقہ اداروں کی ہٹ دھرمی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ مخالف نعرہ بازی کی۔سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر کی طرف سے دی گئی پر امن احتجاج کی کال پر مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ کارکنوں نے شرکت کی اور عوام کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ سول سوسائٹی کے بینر تلے ہوئے مظاہرہ میں سابق بی ڈی سی چیئرمین محمد عباس راتھر، بزرگ کانگریس لیڈر اوم پرکاش پریہار، سابق سرپنچ و بی جے پی لیڈر ماتما سنگھ،سیاسی کارکن فیاض احمد بٹ سمیت دیگر کئی کارکنوں نے حصہ لیا۔اس موقع پر مظاہرین نے انتظامیہ اور محکمہ بجلی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی ناقص کارکردگی سے لوگ پہلے ہی پریشان ہیں اور اس پر محکمہ نے گذشتہ ماہ کے بجلی کرایا میں بیجا اضافہ کیا جسکے نتیجے میں غریب عوام پریشان حال ہے۔ مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے ریاض احمد زرگر نے حکام پر زور دیا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا غیر اعلانیہ کٹوتی نے طلبہ کی تعلیم اور کاروباری زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔اور ماہانہ کرایوں میں حالیہ اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہے، جسے فوری طور پر کم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے منریگا کے تحت حاضری نظام میں تبدیلی لانے کے سرکاری فیصلے کو عوام دشمن قدم قرار دیتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کی مانگ کی۔ مظاہرین نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں طبی نظام بھی غیر فعال ہے جبکہ سڑکیں خستہ حال اور پانی کی اسکیمیں بھی ناکارہ ہو چکی ہیںاور متعلقہ حکام عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔بھلیسہ سول سوسائٹی نے مقامی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر بجلی کے نظام میں فوری بہتری نہ لائی گئی اور عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہوا، تو پوری وادیِ بھلیسہ میں بڑے پیمانے پر ہمگیر احتجاج شروع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی. اس دوران انہوں نے اپنی مانگوں کو لے کر ایک یادداشت سب ڈویڑنل مجسٹریٹ گندوہ ارون کمار بڈیال کو پیش کی۔ایس ڈی ایم نے انہیں یقین دلایا کہ ان مسائل کا ازالہ ترجیح بنیادوں پر کیا جائے گا۔