سرینگر//مرکزی حکومت کی طرف سے بجلی شعبے کی نجی کاری کے مجوزہ فیصلے اور بجلی ترمیمی بل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے انجینئروں اور ملازمین نے اس عمل کو’’ عوام مخالف اور بجلی تک رسائی کے حق‘‘ کے منافی قرار دیا۔ ملازمین اور انجینئرئوں نے ہلکی برفباری اور سرد موسم کے بیچ منگل کو وادی کے جنوب و شمال میں سرکار کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔سرینگرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پائو رانجینئرس اینڈ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی نے کہا کہ جموں کشمیر میں بجلی محکمہ کو کمپنیوں میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی اس محکمہ کی ساخت اور ملازمین کی حیثیت کو کمزور کیا گیا اور اب ایک اور ضرب مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انجینئرس اینڈ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے کنونیئر انجینئر منشی ماجد علی، الیکٹرک ایمپلائز یونین کے صد عبدالرشید سامبوری اور ڈپلومہ انجینئرس ایسو سی ایشن( الیکٹریکل) کے صوبائی صدر انجینئر قیصر الہیٰ میر نے ایوان صحافت میںمشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ بجلی شعبہ کی نجی کاری کے نتیجے میں جموں کشمیر سخت مشکلات کے نرغے میں آئے گی،کیونکہ بجلی شعبہ کی اصلاحات کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اس کیلئے ابھی تک ڈھانچہ بھی مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے مرکزی وزیر بجلی کی طرف سے پہلے مرحلے میں وفاقی زیر انتظام والی اکائیوں میں بجلی نجی کاری پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا ’’ جموں کشمیر میں بجلی کی نجی کاری کے بارے میں آپ کیسے سوچ سکتے ہیں،جب گرڈوں،بجلی ٹرانسفارمروں اور ترسیلی لائنوں و کھمبوں کی حالت خستہ ہوچکی ہے اور ڈھانچہ بھی مکمل طور پر تیار نہیں ہے‘‘۔ کارڈی نیشن کمیٹی کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ شعبہ کی اصلاحات کے نتائج آئندہ برسوں میں سامنے آئیںگے مگر فی الوقت حقیقت یہی ہے کہ بجلی شعبہ جموں کشمیر میں خستہ حالی کا شکار ہے۔انجینئر منشی ماجد علی، عبدالرشید سامبوری اور قیصر الہیٰ میر نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکومت ہند کی طرف سے آئی اے ایس افسر آلوک کمار کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی تھی، انہوں نے بھی اس بات کی عکاسی کی ہے،جبکہ اس معاملے کے اصل فریق جو کہ اس شعبے سے وابستہ ملازم ہیں انہیں مشاورت سازی کے کسی بھی مرحلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا’’ ارباب اقتدار کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں دیگر ریاستوں کے برعکس بجلی فیس بہت کم ہیں اور جو نجی کمپنیاں یہاں پر آئیں گی وہ پہلے مرحلے میں ہی بجلی فیس میں اضافہ کریں گی،جس کے نتیجے میں براہ راست جموں کشمیر کے بجلی صارفین اور ملازمین متاثر ہوںگے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کا تجربہ پہلے ہی آگرہ،نوئیڈا اور اُڑیسہ میں ناکام ہوچکا ہے،اور سرکار بغیر کسی پراوہ کے بغیر ہی نجی کمپنیوں کے منشا ء کو خا طر میں لیکر پیش رفت کر رہی ہے۔ ملازمین اور انجینئر لیڈراں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ اصلاحات کے نام پر حکومت نجی شعبے کے مفادات کی خدمت کر رہی ہے،جس کے نتیجے میں پبلک سیکٹر خستہ ہو رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مجوزہ نجکاری کو’’ عوام مخالف اور خطرناک ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ صارفین کی بجلی تک رسائی کے حق پر شب خون مارا جا رہا ہے‘‘۔ کارڈی نیشن کمیٹی نے عوام کو بھی مشورہ دیا کہ بجلی تک رسائی کے اپنے قانونی حق کیلئے وہ سامنے آئیں۔کارڈی نیشن کمیٹی کے ان لیڈروں نے کہا کہ جموں کشمیر میں پہلے ہی نامساعد حالات کی وجہ سے اقتصادی پوزیشن بہت خراب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ بجلی کے ملازمین بھی اس وقت لاک ڈائون کے دوران کرونا جیسی وبائی بیماری سے لڑنے کیلئے صف اول میں کام کر رہے ہیں اور ملازمین کو سرکار کی طرف سے راحت دینے کے برعکس انہیں اس طرح کے فیصلہ و قانون سازی کی وجہ سے مزید مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔اس دوران منگل کو سخت سردی اور ہلکی برفباری کے بیچ محکمہ کے ملازمین اور انجینئرئوں نے وادی کے جنوب و شمال میں اپنے دفاتروں اور اسٹیشنوں پر احتجاج کیا۔سرینگر کے بمنہ میں بھی ملازمین بجلی نے احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر اس مجوزہ بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے،جن پر’’ استحصال نہیں،نجکاری نہیں،بجلی ملازمین کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ مت کرو‘‘ کے نعرے درج تھے۔