جموں اور وادی مختلف اضلاع میں گذشتہ پانچ چھ دنوںکے دوران شدید بارشوں ،لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورت حال نے جو خوفناک تباہی مچادی ہے ،اُس پر جموں و کشمیر کا ہر فردِ بشر غم اندوہ اور افسردہ ہے۔شدید بارشوںکے نتیجے میں سیلابی ریلوں کے سبب مختلف علاقوں کےباشندگان کو جہاں کئی انسانی زندگیوں کا اتلاف سہنا پڑا، وہیں بڑے پیمانے پر مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑ اہے۔
درجنوں تعمیرات ڈَھہ اور بہہ کر نیست نابود ہو ئے ہیںاور سینکڑوں رہائشی ڈھانچےتباہ ہوکر رہ گئے ہیں جس کے باعث ان علاقوں کے باشندگان اپنے آشیانوںسے محروم ہوکر لاچار اور بے بس ہوگئے ہیں۔ظاہر ہے کہ جب بھی کہیں آفتِ الٰہی آتی ہے، اُسے کوئی انسانی طاقت روک نہیں سکتی اور نہ ہی انسان کی کوئی ہُنر کام آتی ہے۔ وادیٔ کشمیر اور جموں کے اطراف و اکناف میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بھی وقفہ وقفہ کے بعد بے موقع شدیدبارشوں،پہاڑی ڈھلوانوں کے گِر آنے ،زمین کھسکنے اور سڑکیں ڈھہ جانے کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا،اُس میں بھی لوگوں کا مالی اور جانی نقصان ہوچکا ہے،جبکہ آ ج بھی ایسی وارداتیں ،ذرائع ابلاغ کے لئے روزانہ کی خبریں بن جاتی ہیں،جن میں ہونے والے اثاثوں کے نقصانات کی تفصیل درج ہوتی ہیں۔ ان وارداتوں میں اگرچہ محدود پیمانے پر جانی نقصان ہوتا رہتا ہے، لیکن بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کو مالی نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے۔ جس کے نتیجے میںزیادہ تر متاثرہ لوگوں کی نظام ِزندگی اس قدر مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے کہ بے کسی اور بے بسی کے عالم میں وہ جانوروں سے بدتر زندگی جینے پر مجبورہو رہے ہیں۔بے شک بحیثیت انسانیت اس صورتِ حال کو دیکھ کرزیادہ تر انسانوں کا دِل دہل کے رہ جاتا ہے اور وہ انسانی فطرت کے تقاضے کے تحت نوع ِ انسانی کی مدد کے لئے آگے آتے ہیں اور وقتی طور پر متاثرین کے ساتھی اور مددگاربن جاتےہیں،اُن کی ہمت بڑھاتے ہیں ،انہیں حوصلہ دیتے ہیں۔
اسی طرح حکومت اورحکومتی ادارے بھی ان موقعوں پر فوراًحرکت میں آجاتے ہیںاور اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتےہیںجبکہ بعض رضاکار تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں،گویا ہرادارہ آفات زدہ متاثرین کو راحت پہنچانے کی حتی المکان کوشش کرتارہتا ہے ،مگر پھر کچھ دن گذر جانے کے بعد ہی معاملہ آیا گیا ہوجاتا ہےاور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔جس سےیہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا اسی طرح کے امداد سے متاثرین کی زندگی بحال ہوجاتی ہے؟یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ہاں! کسی بھی قدرتی آفت کے شکار لوگوں کی زندگی بحال کرنےکی اہم ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہے،تاکہ متاثرین جسم و جان کا رشتہ برقرا ر رکھ سکیں اوراُن کی زندگی کی بحالی کے لئے وہ سب کچھ کرے،جس سے وہ اپنے معاشرے میںپہلے جیسے کی طرح زندگی کا گذر بسر کرسکیں،کیونکہ اسی مقصد کے تحت حکومتیں وجود میں آجاتی ہیں اور عوامی حکومتیں کہلاتی ہیں ۔جموں وکشمیر کے اطرف و اکناف کےجن علاقوں میںحالیہ شدید بارشوں کے کارن سیلابی صورت حال نے قہر بپاکر جن لوگوں کو مسمار و برباد کرکے رکھ دیا ہے ،اُن کے بچائو اور بحالی کے لئے حکومتی انتظامیہ کو ہنگامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ابھی بھی ان علاقوںمیں شدیدبارشیں ہونے کا امکان ہے۔جبکہ بارشوںکے دوران متاثرین ،بغیر آشیانوں اور بغیر بنیادی ضرورتوں کے زندگی کیسے اور کس طرح گزاریں، اس پر سنجیدہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
بے شک کوئی بھی ذی حِس اور باشعور انسان خصوصاًحکومت اس بات کو بخوبی سمجھ سکتی ہے کہ متاثرین کی حالت ِزار دن بہ دن مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ یوٹی حکومت اپنے اُن اداروں، جو آفات سے متاثرہ لوگوں کی راحت اور بحالی کے لئے قائم ہیں،کو متحرک ہونے کے لئے سخت احکامات صادر کریں،تاکہ وہ متاثرین کے تحفظ اور اُن کی زندگی کی بحالی کے کاموں میں کوئی کوتاہی نہ برتیں۔خصوصاًمحکمہ آفات ِ سماوی کے عملےاورپولیس محکمے کے جوانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ متاثرین کے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹیں متعلقہ محکمہ تک پہنچانے میں کوئی تاخیر نہ کریں، تاکہ بر وقت متاثرین کی ہر وہ سامان فراہم ہو پائے،جس کی اِس وقت اُنہیں اشد ضرورت ہے۔
����������������������