رہائشی مکانوں ، کھیتوں اور فصلوں کوشدید نقصان،کئی رابطہ سڑکیں منقطع ،لوگ نالاں
محمد تسکین
بانہال // جمعہ کی رات بادل پھٹنے اور مختصر وقت تک جاری رہنے والی طوفانی بارشوں نے بانہال ، رامسو اور گول سب ڈویژنوں میں بھی کئی رہائشی مکانوں ، دکانوں ، سڑکوں ، پلوں اور اراضی کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور سمبڑ ، بجھمستہ ، ورنال کے کئی علاقوں میں معمول کی زندگی اثر انداز ہوگئی ہے ۔ڈی ڈی سی کونسلر کھڑی اور نیشنل کانفرنس لیڈر فیاض احمد نائیک نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ حلقہ انتخاب بانہال ۔ گول کے علاقوں میں بادل پھٹنے اور پانی کے ریلوں کی وجہ سے سمبڑ ، ڈمکی ،ریگی دھار ، سرلا ، نکہ ، ڈوگین ، چکہ ، سربگھنی ، شگن ، منجوس ، ہانجوس ، اوڑکہ ، لبلٹھا ، ٹٹنہ ہال اور ہی وگن کے علاقوں میں درجنوں رہائشی مکانوں ، کئی دکانوں ، گاڑیوں اور کھیل کے میدان اور لوگوں کی سینکروں کنال اراضی اور مکئی کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹشن سمبڑ اور ریلوے ٹنل نمبر سنتالیس کے درمیان نالے میں آئی ظغیانی نے سمبڑ ریلوے سٹیشن سے ورنال کو جانے والی سڑک کو مکمل طور سے تباہ کیا ہے جبکہ سڑک کے ایک پل کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے متاثرین کی فوری مدد کیلئے حکام کو فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ۔ تحصیل رامسو کی پنچایت سمبڑ کے سابقہ سرپنچ محمد اشرف نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ سمبڑ میں ریلوے سٹیشن کے ساتھ نالے میں آئی تباہی کیلئے غیر معیاری کام انجام دینے والی ریلوے تعمیراتی کمپنیاں زمہ دار ہیں جنہوں نے نالہ پر ضرورت کے باوجود ایک پل تعمیر نہیں کیا ہے جبکہ نالہ پر تعمیر ایک کلورٹ کا رخ نیچے بستی کی طرف رکھا گیا ہے اور گزشتہ رات کو آیا سیلابی ریلاریلوے تعمیراتی کمپنیوں کی من مرضی کی وجہ سے تباہ کن ثابت ہوا ۔ انہوں نے کہ چھ دکانوں میں پانی داخل ہونے سے نقصان ہوا ہے اور ایک ڈمپر نالے کی نذر ہوگیا جبکہ سمڑ اور ورنال ، بجھمستہ کو جوڑنے والی سڑک مکمل طور سے ڈھہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کی طرف سے یوں ہی سے چھوڑے گئے نالے نے مرکزی جامع مسجد سمبڑ اور دارالعلوم اسراریہ آنچی مانچی سمبڑ کو خطرہ لاحق پیدا کیا ہے اور دارالعلوم اسراریہ کی زمین بھی اس نالے کے کٹاو میں بہہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشن سمبڑ کے بپچھے بھی زخیرہ کئے گئے ملبے پر بنائی گئی جگہ کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔