یادیں
اگنی شیکھر،جموں
حال ہی میں جموں و کشمیر آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز اکیڈمی کے زیر اہتمام ’’میں اور میراادبی سفر ‘‘پروگرام میں اس بار مہمان تخلیق کار ڈاکٹر رفیق مسعودی تھے۔ میرے کالج کے ہم جماعت۔ کشمیری ادیب، مترجم اور دوردرشن کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل۔جموں شہر میں میری مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے یہ پروگرام مہمان ادیب کے کہنے پر تین بار ملتوی ہوتا رہا۔ ڈاکٹر رفیق مسعودی اپنی ضد پر اڑے رہے کہ ان کے پروگرام میں ڈاکٹر اگنی شیکھر کا ہونا ہی ہوگا۔ مجھے یاد آیا برسوں پہلے ایسا ہی اصرار سینئر ڈوگری افسانہ نگار، شاعر، مفکر، فلم اور ٹی وی کے مشہور ہدایت کار وید راہی جی نے بھی کیا تھا۔ اتفاق سے تب بھی ان کے ہندی ناول ’’لل دید‘‘ کی رسمِ اجرا کا پروگرام تین بار ٹلا تھا۔ وید راہی جی کی خواہش تھی کہ میں ان کے ناول پر مقالہ پڑھوں۔یہ ان کا بے پناہ پیار تھا جو ویسے بھی مجھے ہمیشہ ملتا رہا ہے۔ وہ میری زندگی کی جدوجہد اور میرے شعری تخلیق کے مداح ہیں۔
ڈاکٹر رفیق مسعودی کی بات تھوڑی مختلف ہے۔ وہ کالج میں میرا ہم جماعت تھا۔ یہ 1971-72کی بات ہے۔ اسے ایک دور اندیش پروفیسر غلام رسول بچا نے ہندی پڑھنے کا حکم دیا۔ رفیق مسعودی نے یہ بات سٹیج سے بھی تسلیم کی کہ بچا صاحب نے گھر آ کر اس کے والد سے بھی کہا تھا کہ رفیق مسعودی کو ہندی پڑھائیں گے۔ اس کے مستقبل کا راستہ ہندی سے ہو کر جائے گا۔
پروفیسر بچا کی شبیہ سوپور میں ایک کٹر قسم کے رجحان والے پروفیسر کی تھی۔۔مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ سوپور کے نام سے بی ایڈ کالج کے بانی پروفیسر بچا نے ایک دن مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ تقریباً حکم کے لہجے میں کہا، ’’رفیق مسعودی کل سے گیارہویں جماعت میں ہندی پڑھنے آئے گا۔ وہ ہندی نہیں جانتا ہے، تم اس کو الگ سے ہندی پڑھاؤ گے۔ خیال رکھنا۔ آپ کے ہندی پروفیسر سے میں نے بات کر رکھی ہے۔‘‘پروفیسر بچا کا یہ حکم آمیز لہجہ اور تیور مجھے پسند نہیں آیا۔ زندگی میں پہلی بار لگا کہ غیر ہونا کیا ہوتا ہے! سامنے کچھ کہہ نہیں سکا۔ حالات ہی ایسے تھے۔ خاموش رہا۔ یہ بھارت۔پاکستان جنگ کے بعد کے تناؤ بھرے دن تھے۔
میں نے رفیق مسعودی کو جب پہلی بار ہندی کلاس میں دیکھا تو میں حیرانی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ ہندی کا، ک۔کھ۔گ تک نہیں جانتا تھا۔ وہ کلاس میں ہندی پڑھا رہے استاد کو ٹکٹکی باندھے دیکھا کرتا۔ مجھے اس پر ترس آیا۔ میں نے پروفیسر بچا کے طنز کو دل سے نکال کر اس ہندی ہم جماعت کو دوست بنانے کا ارادہ کیا۔ وہ بھولا بھالا سا تھا۔ دبلے بدن کا نوجوان۔ مجھ پر ہندی کا جنون سوار تھا۔ اسے ہندی پڑھانے کی ٹھان لی۔ ہم نصاب میں کبیر، سور، تلسی، میرا، رحیم وغیرہ کے کلام کو پڑھتے، رفیق لکیروں والی نوٹ بک میں ہندی کی سطروں کو آہستہ آہستہ لکھتا جاتا۔
رفیق مسعودی آج بھی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے میری باقاعدہ تدریس کو عوامی سٹیجوں سے احترام کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے مجھے اپنا گرو کہتا ہے۔ یہ اس کا بڑا پن ہے۔ اس نے بہت محنت کی اور ہم سب کو حیرت میں ڈالتے ہوئے پہلے ہی سال 33فیصد نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ پروفیسر بچا کا چہیتا اور میرا شاگرد فیل ہونے سے بال بال بچ گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ بومئی گاؤں کا ہمارا ایک ہم جماعت چونی لال پندتا ہندی میں اپنی لاپرواہی یا گھمنڈ کے سبب جیسے درخت کی شاخ سے پھسل کر گر گیا۔ وہ رفیق مسعودی سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ اس نے ہندی کے بدلے کوئی اور مضمون لے لیا۔ حالانکہ اس نے ہندی دسویں میں بھی پڑھی تھی اور اچھے نمبروں سے پاس بھی ہوا تھا۔
میں نے رفیق مسعودی کو خلوص سے پڑھانا جاری رکھا۔ اب وہ میرا دوست بھی بن گیا تھا۔ وہ میرے دیگر ہندی ہم جماعتوں کی طرح ہی حیران تھا کہ میرا سینئر ہندی شاعر ہری ونش رائے بچن کے ساتھ خط کتابت تھا۔ وہ آج بھی کہتا پھرتا ہے کہ ان دنوں اگنی شیکھر ہندی کی موٹی موٹی کتابیں ہاتھ میں لیے کالج میں گھومتے پھرتے تھے۔ یہ سچ بھی تھا۔ آہستہ آہستہ ہم اتنے گھل مل گئے تھے کہ میں نے ایک دن رفیق سے کہا، ’’سن لے، آج سے تجھے میں رفیق داس کے نام سے بلاؤں گا۔‘‘ اس نے بُرا نہیں مانا۔ شاید اندر سے خوش ہی ہوا ہو۔سور سور تلسی سسی، اڈگن کیشو داس کے بعد۔خدیوت رفیق داس! ہاہاہا!
اگلے سال میں کالج کے رسالے وُلر کے ہندی حصے کا طالب علم مدیر بن گیا تھا۔ میرے ہندی ہم جماعتوں کی نظر میں، خاص طور پر چار طالبات کی نظروں میں، میرا رتبہ کچھ بڑھ گیا تھا۔ رفیق میرے طالب علم مدیر بننے پر اضافی طور پر خوش تھا۔ شاید میں اس کے لئے ھرم یُگ کے مدیر جیسا کچھ تھا۔ آج یاد کرنے پر ہنسی چھوٹتی ہے۔ وہ مجھے اکثر کتب خانے میں ‘دھرم یُگ پڑھتے ہوئے دیکھا کرتا۔
ایک دن میں نے اس سےوُلر رسالے کے لیے نظمیں لکھوائی تھیں۔ اس کی یاد مجھے رفیق نے ہی لکھاری سے ملئے پروگرام کے دوران دلائی۔ رفیق مسعودی نے اس سنجیدہ پروگرام میں عوامی سٹیج سے ایسی کئی اعترافات ناظرین سے شیئر کیے جنہیں گول مول گھما کر وہ آگے بھی نکل سکتا تھا۔
میں نے سٹیج سے کئی ناظرین کے چہروں کو غور سے دیکھا۔ جیسے رفیق مسعودی کا یہ راز فاش کرنا کہ جب میں بہت کم فیصد سے ہندی میں پاس ہوا تو مجھے پروفیسر غلام رسول بچا نے جے این یو میں داخلہ لینے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے ڈاکٹر نامور سنگھ کے نام لکھی چٹھی مجھے پکڑا دی۔ جے این یو میں داخلہ تقریباً بند ہو چکا تھا۔ نامور جی پروفیسر بچا کا خط پڑھ کر کچھ سوچ میں پڑ گئے۔
انہوں نے فوراً پروفیسر مونس رضا کے نام مجھے خط دیا۔ پروفیسر مونس رضا صاحب کا طوطی بولتا تھا۔ وہ راہی معصوم رضا کے بھائی تھے۔ اس طرح جیسے ایک معجزہ ہو گیا۔ مجھے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ میں نے بعد میں ہندی ادب میں مسلمان شعرا کا حصہ موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کی اور یہ موضوع بھی نامور سنگھ جی نے ہی تجویز کیا تھا۔ رفیق مسعودی نے سادگی سے بتایا۔رفیق مسعودی جب اس پروگرام میں اپنے کئی واقعات سنا رہے تھے کہ کیسے اور کن کن ہستیوں نے اس کی اعلیٰ تقرریوں میں مدد کی، کیسے وہ گجرات سے یو جی سی کے امتحان میں بغیر اسناد کے گیا تھا، جو اس نے بعد میں جمع کیے تھے۔کیسے کیسے وہ آگے بڑھتا گیا۔
میرے ذہن میں نامور جی کے کئی واقعات کوند رہے تھے۔ یوں تو وہ ہم نوجوان ادیبوں مہاراج سنتوشی، کشما کول، سنجنا کول، مہاراج شاہ کو کشمیر کے دنوں سے ہی اچھی طرح جانتے تھے۔ مجھے کبھی کبھار پوسٹ کارڈ بھی لکھتے۔ ہمارے گھر آتے۔ کشمیر آنے سے پہلے ہر بار خط لکھتے۔ ادیبوں کے ساتھ نشست رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے۔ ہم ان کے ساتھ لال چوک میں ٹہلتے۔ کبھی قراقلی ٹوپی، کبھی زعفران، کبھی اخروٹ خریدنے ساتھ جاتے۔ انہیں ریگل چوک میں کافی ہاؤس لے جاتے یا لال چوک میں اپنے جاننے والے دکانداروں کے پاس خریداری کے لیے لے جاتے۔
یہ ہندی شاعری کے ہم عصر دور میں ادے پرکاش، منگلیش ڈبرال، راجیش جوشی، ارون کمل، اکشے اپادھیائے جیسے ستاروں کے ابھر کر آنے کے دن تھے؛ اور ہم نامور جی کی نظر میں تھے۔ ہم ان میں ایک شفقت دیکھتے جو ہمارے لیے ان میں آخر تک برابر بنی رہی، لیکن ایک گلانی کے احساس کے ساتھ۔ کشمیر سے ہمارے اجتماعی جلاوطنی کے بعد برسوں تک وہ بھی دیگر نامور ترقی پسند ادیبوں اور دانشوروں کی طرح بجلی جیسی خاموشی اختیار کیے رہے، جو ہمارے لیے ایک صدمے کی طرح تھا۔حالانکہ بعد کے سالوں میں دوردرشن پر انہوں نے میری دو شعری کتابوں پر گفتگو بھی کی تھی، اور مجھے فون پر مطلع بھی کیا تھا۔ جموں آتے تو ہمیں ضرور اپنے پروگرام میں بلاتے۔ اور اپنے بولنے کے دوران شفقت کے ساتھ نام بھی لیتے۔ کئی کہی۔ان کہی یادیں ہیں۔ وہ پھر کبھی۔ الگ سے۔
1990 میں جب ہم جلاوطن ہو کر جموں کے کیمپوں میں پہنچے تھے، تو کچھ عرصے بعد میں دہلی گیا۔ میں اپنے ایک جلاوطن ڈاکٹر دوست کے ساتھ سیدھے نامور جی سے ملنے جے این یو پہنچا۔ میرے اس دوست کے والد کشمیر میں کمیونسٹ تحریک سے جڑے تھے، اور وہ بھی دیگر بائیں بازو کے دانشوروں کی طرح جان بچا کر راتوں رات جموں بھاگ آئے تھے گلاسنوست اورپیریستروئیکاجیسی ہوائی بحثیں وہیں چھوڑ کر۔ جیسے کانگریسی نہرو اوراندرا گاندھی کو، نیشنل کانفرنسی شیخ عبداللہ کےنیا کشمیرکو اور سنگھی ہندو راشٹرکو وہیں چھوڑ کر جموں کے پناہ گزین کیمپوں میں تھوڑی راحت کی سانس لے رہے تھے۔
میں نے جے این یو جاتے ہوئے اپنے دوست سے نامور جی کے بارے بتایا تھا کہ تم کتنے خوش نصیب ہو کہ ہندی ادبی دنیا کے بے مثال عالم کے دیدار کرنے جا رہے ہو اور جو ہمارے خیرخواہ بھی ہیں۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ تھوڑی دیر بعد ہی میں نامور جی کو پہلی نظر میں دروازے پر کھڑے کھڑے ہی دیکھ کر حیران رہ جاؤں گا۔ان دنوں موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے بغیر پیشگی اطلاع کے ہی چلا گیا۔ لٹا۔پٹا۔ بے حال۔ قابلِ رحم صورت تھی۔ تیز دھوپ برس رہی تھی۔ جموں کے پناہ گزین کیمپوں میں ہمارے کئی لوگ لو لگنے سے مر گئے تھے؛ اور ہر روز مر رہے تھے۔
میں نے نامور جی کے دروازے پر دستک دی۔ دوپہر کی تیز دھوپ تھی اور ہم رومال سے چہرہ پونچھ رہے تھے۔ صحن کا دروازہ کسی مائی نے کھولا۔ آپ لوگ کون ہیں، اس نے جاننا چاہا اور ہمیں وہیں باہر دروازے پر ہی رُکنے کو کہہ کر اندر چلی گئیں۔ جب لوٹیں تو بولیں، ’’وہ مصروف ہیں، پھر کبھی آئیے!‘‘میں سکتے میں آ گیا۔ پتہ نہیں چھوٹتے ہی کس انجان لمحے میں اس مائی سے کہا، ’’ان سے کہیں کہ ہم کشمیر سے آئے ہیں اور آپ کو ایک نمستے کہہ کر چلے جائیں گے۔‘‘وہ الٹے پاؤں واپس گئی۔
میرے برابر میں کھڑا میرا دوست بھی سکتے میں تھا اور میں اس سے آنکھیں ملا سکنے کی حالت میں نہ تھا۔ اچانک اندر سے آ کر نامور جی دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ہاتھ جوڑ کر سلام کیا۔ان کے مانوس چہرے پر ایک بے چینی تھی۔ تقریباً بے حسی۔میں نے دل شکستہ ہو کر وہاں پھیلے سناٹے کو توڑتے ہوئے کہا، ’’نامور جی یہ میرے ڈاکٹر دوست ہیں۔ کٹر بائیں بازو کے خاندان سے۔یہ سب بھی جان بچا کر جموں کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کسی کو نہیں بخشا۔ میں بھی جموں میں ہوں۔ کشما اور بچے دہلی کے بیگوسرائے پناہ گزین کیمپ میں ہیں۔‘‘ میں، نامور جی کے پوچھے بغیر ہی، جلدی جلدی انہیں اپنی ساری اطلاعات سنائے جا رہا تھا۔ میرا دوست پسینہ پونچھ رہا تھا۔
نامور جی دروازے کی چوکھٹ میں کھڑے ہمیں خالی نظروں سے دیکھتے رہے۔ دو منٹ کے لیے ہی سہی، اندر آنے کو نہیں کہا جس کی توقع تھی۔ پیاس بہت لگی تھی۔ گلا سوکھ گیا تھا۔انہوں نے پوچھا، ’’رفیق مسعودی کیسا ہے؟‘‘
’’نامور جی، ہم گھنی رات میں جان بچا کر بھاگ کر آئے ہیں۔’’ میں نے خشک حلق کو اپنے تھوک سے کچھ تر کرتے ہوئے ان سے کہا اور وہاں سے چل دیے۔ راستے بھر میری ہمت نہیں ہوئی اپنے دوست سے آنکھیں ملانے کی، کوئی بات کرنے کی۔’’یہ رفیق مسعودی کون ہیں، جن کی فکر آپ کے ان عظیم ادیب کو ہماری تباہی سے زیادہ تھی؟‘‘ میرے دوست نے سوال کیا۔میں نے بے دلی سے دوست کو رفیق مسعودی کے بارے میں بتایا جو آل انڈیا ریڈیو سرینگر (تب ریڈیو کشمیر، سرینگر)میں ملازم تھا۔ دہلی کی ڈی ٹی سی بس میں بیٹھے بیٹھے میں دیر تک رفیق مسعودی کے بارے میں سوچتا رہا۔ کتنا خوش نصیب ہے رفیق مسعودی ہونا۔ کون ہے سچ میں رفیق مسعودی؟ میرا ہم جماعت، جسے میں نے کالج میں ہندی پڑھائی ہے یا وہ جو ایک استعارہ ہے؟
ہندی تو ہم نے بھی پڑھی تھی اور ہم ہونہار نوجوان ادیب بھی تھے۔اچانک میرے دوست نے کہا، ’’یہ دہلی ہے!‘‘یاد آیا کہ کیسے ٹھیک اسی طرح ایک بار الا ڈالمیا نے بھی نوکر سے کہلوا بھیجا تھا کہ وہ آرام کر رہی ہیں، پھر کبھی آئیے اور پہلے سے بتا کر۔ میں نے قریب کے کسی بس اسٹاپ پر بیٹھ کر الا ڈالمیا کو تلخ زبان میں ایک خط لکھا تھا۔
رفیق مسعودی کے بعد میں نے پل پار سوپور کے ہی ایک اور مسلم طالب علم مشتاق کو بھی سال بھر مفت ہندی پڑھائی۔ وہ بی اے تیسرے سال کی ہندی میں دو بار فیل ہو چکا تھا۔میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں ہندی ماسٹرز کی پڑھائی کے لیے روز سوپور سے سرینگر اور سرینگر سے حضرت بل یونیورسٹی آیا جایا کرتا تھا۔ دو طرفہ فاصلہ تقریباً 110 کلومیٹر طے کرنا پڑتا تھا۔ اور پھر باقاعدگی سے مشتاق کو گھنٹہ بھر پڑھاتا۔ رفیق مسعودی کی دیکھا دیکھی میں وہ بھی ہندی پڑھنے لگ گیا تھا تاکہ مستقبل میں وہ کسی کالج کا پروفیسر بنے؛ جو وہ بنا بھی۔
ایک دن اس نے ہرے مخملی کپڑے میں سلیقے سے لپٹی قرآن کی ایک نقل مجھے پڑھنے کے لیے دے دی، ’’یہ میری امی نے بھیجی ہے۔ آپ یہ ہندی ترجمہ اور تفسیر پڑھیں۔‘‘ میں نے اس کتاب کو احترام سے قبول کیا۔ یہ ایک طرح سے اس کی میرے لیے گرو دکشنا تھی۔ میں نے قرآن کے اس ایڈیشن کو پڑھا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں قرآن کا انگریزی ترجمہ پڑھ چکا تھا۔مشتاق نے ہندی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا اور ایک دن اس نے یہ کہہ کر مجھے چونکا دیا کہ امی نے پوچھا ہے کہ کیا آپ نے قرآن مجید پڑھ لی کیا۔اگر ہاں تو آپ کو اسلام قبول کر لینا چاہیے۔ میں صرف مسکرایا۔ یہ کیسی گرو دکشنا تھی!
رفیق مسعودی کی بات ہی الگ تھی۔ جب وہ جموں و کشمیر کی اکیڈمی کا سیکرٹری بن کر جموں آیا تو اکیڈمی کی سرگرمیوں میں اس نے نئی جان ڈال دی۔ کئی بار عوامی سٹیجوں سےاگنی شیکھر میرے گرو ہیںکہتا رہا۔ میں معروف نوجوان مصور روہت ورما کو ساتھ لے کر اسے مبارک دینے اس کے دفتر پہنچا۔ کمرہ اسے مبارک دینے آئے جموں کے فنکاروں اور ادیبوں سے بھرا تھا۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم گلے ملے۔’’آپ میرے گرو ہیں۔ انہوں نے مجھے کالج میں ہندی نہ پڑھائی ہوتی تو آج میں اس اعلیٰ عہدے تک نہ پہنچتا۔‘‘رفیق مسعودی نے مجھے جھجک میں ڈالتے ہوئے کہا۔کمرے میں بجنے والی تالیوں پر میں نے بھی اختیار سے اس سے کہا، ’’یار، گرو گرو کہے جا رہے ہو،گرو دکشنا تو کبھی دی نہیں۔‘‘
’’آپ مانگئے تو سہی ۔۔۔میں دے دوں گا۔‘‘’’پکا؟‘‘
’’میں سب کے سامنے وعدہ کرتا ہوں!‘‘