نیوز ڈیسک
جموں//سروسز سلیکشن بورڈ امتحانات کیلئے مقرر کی گئی بھرتی کمپنی ایپ ٹیک کے خلاف محاذ گرم ہی ہوتا چلا جارہا ہے اور اب کم وبیش سبھی اپوزیشن جماعتیں میدان میں اتر گئی ہیں اور انہوں نے کھلم کھلا ایس ایس آر بی امیدواروں کی حمایت کی ہے ۔ جموں میں ہفتے کی شام کو ہزاروں کی تعداد میں امیدواروں نے کینڈل لائٹ مارچ نکالا او ر راج بھون کی طرف پیش قدمی شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ کچی چھاونی سے یہ کینڈل لائٹ مارچ نکالا گیا جس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے کو ملا۔معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کی خاطر جموں میں سیکورٹی کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا جبکہ مظاہرین کو راج بھون کی طرف جانے سے روکنے کی خاطر بھی جگہ جگہ بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی۔امیدواروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج تب ہی ختم ہوگا جب ایپ ٹیک کا کنٹریکٹ ختم کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کہ ایپ ٹیک کمپنی کو کس بنیاد پر یہ ٹھیکہ الاٹ کیا گیا۔امیدواروں سے اظہار یکجہتی کی خاطر نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فارو ق عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی کینڈل لائٹ مارچ میں شرکت کی۔دونوں لیڈروںنے موم بتیاںلیکر احتجاج میں حصہ لیا اور امیدواروںکے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایپ ٹیک بھرتی کمپنی کو بدنام زمانہ قرار دیتے ہوئے اس کو بلیک لسٹ کرنے اور امتحانات روک کر بھرتی عمل شفاف طریقے سے نئے سرے سے کرنے کا مطالبہ کیا۔بعد میں ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی نے بھی ایپ ٹیک لمیٹڈ کے خلاف کینڈل مارچ کے احتجاج میں شمولیت اختیار کی۔ صوبائی صدر جگل کشور شرما نے کہا کہ وہ ایک ناقص کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے جے کے ایس ایس بی کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جموں میں کینڈل مارچ میں شامل ہوئے جس کو ملک کی کئی ریاستوں میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ترجمان اعلیٰ سلمان نظامی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس کمپنی کو ہمارے نوجوانوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ جب ہمارے نوجوان کمپنی سے مطمئن نہیں ہیں تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ کمپنی کی جگہ کسی ایسے شخص کو لے جائے جس کا ٹریک ریکارڈ شاندار ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب تک APTECH کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں کیا جاتا، وہ JKSSB کے خواہشمندوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک مارچ کے شرکا ء امپھالہ جیل کے باہر احتجاج کر رہے تھے اور راج بھون کی طرف جانے پر بضد تھے۔