وزیراعظم مودی نے ایک جوشیلی تقریر میں کہا کہ ہم پاکستان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے ایٹمی ہتھیار دیوالی کے روز پٹاخے پھوڑنے کے لئے نہیں رکھے ہیں۔ پاکستان کے ایک وزیر نے جواب دیا کہ اسلام آباد نے بھی یہ ایٹم بم عید کے لئے نہیں بنا رکھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آرپار نے یہ کس واسطے رکھے ہیں؟ ویسے یہ سوال کوئی نہ پوچھے تو بہتر اور کوئی جواب نہ دے تو بہترین۔ کیونکہ سوال کا جواب بہت منحوس، وحشت ناک ہے اور انسانی تہذیب پر کلنک ہے ۔
فرض کریں کلاس روم میں بچے اُستاد سے پوچھیں:’’ سر! نیوکلر ہتھیار کیا چیز ہوتے ہیں؟ ‘‘اُستاد یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ایسے سوال نہیں پوچھنے چاہیے، یہ گندی بات ہے۔اُس کو بتانا پڑے گا کہ یہ ایسے ہتھیار نہیں ہوتے کہ فوج کندھے پراُٹھا ئے یا گاڑی میں رکھے میدان جنگ تک لے آئے۔ وہ کہے گا :’’پر مانُوہتھیار لڑائی کے میدان میں جاتے ہی نہیں بس اپنے ٹھکانوں پر جمے رہتے ہیں اور وہیں سے بٹن دباکر دنیا کاسروناش کر تے ہیں۔ان کو فوجی نہیں سیاسی حاکم ہی چلا سکتا ہے ۔ یہ آسمان میں اُڑکر زمین میں جس جگہ گرتے ہیں، وہاںکئی میل تک سب انسان، پیڑ پودے، جانور یک دم مر جاتے ہیں ،عمارتیں خاکسترہو جاتی ہیں ، تباہیوں کا دُھواں صدیوں اُٹھتا ہے۔
تھوڑی دیر ڈر کر سہم جانے کے بعدبچے پھر پوچھ سکتے ہیں: ’’سر! کیا ہمارے جیسے بچے بھی مرجاتے ہیں؟‘‘ ایک حساس اُستادمایوسی کے عالم میں بچوں کا معصوم چہرہ تکتا رہے گا، سوچتا رہے گا مگر کوئی جواب نہیں دے پائے گا،لیکن کوئی چوڑی چھاتی والا دلیر اُستاد ہو تو بول سکتا ہے: ’’نہیں بچو! وہ تو صرف دُشمن بچے ہی کو مارتا ہے۔‘‘ ہو سکتا ہے کہ بچے کلاس روام میں اور نہ بھی پوچھیں لیکن گھر جاتے راستے میں ایک دوسرے سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا بچے بھی دشمن ہوتے ہیں؟‘‘بچے ایسا بھی سوچ سکتے ہیں کہ جو ہتھیار میلوں تک سب کچھ تباہ کر سکتا ہے، اگر پار قصور شہر پر گرے ، تو کیا فیروزپور کو خطرہ نہیں ہوگا؟‘‘
جب سوؤیت یونین ٹوٹ گیا تو اُس کے صدر گورباچوف نے استعفیٰ دینے کے بعد روس کے صدر بورس یلسن کو چارج دیا۔ٹی وی پر دکھایا گیا کہ وہ ایک چھوٹا سا بریف کیس یلسن کو پکڑا رہا ہے جو نیوکلر ہتھیاروں کے بٹنوں کا باکس تھا۔ ٹی وی دیکھنے والے خوف سے سوچتے رہے کہ اگر یہ بکس گر جائے یا کوئی چھین کر دوڑ جائے تو کیا ہوگا؟ آخر اس باکس میں دنیا کو تباہ کرنے کے ہتھیاروں کے بٹن ہی تو ہیں۔ جب کوئی بٹن دبا دیا جائے تو ان ہتھیاروں کے پاس سوچنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ ذرا ساصبر کریں، یہ صرف حکم کی تعمیل جانتے ہیں۔ یہ ہتھیار کتنے تباہ کن ہوتے ہیں ،اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ بات چیت ٹوٹنے کے بعد شمالی کوریا کے صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے ملک پر حملہ کیا گیا تو وہ اس زمین کو تباہ کر دیںگے ۔(We will destroy the earth)جب بھی جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سنجیدہ بحث ہوتی ہے تو دانش ور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کبھی استعمال نہیں ہو سکتے، وجہ یہ ہے کہ ان کو استعمال کرنے والے کو پتہ ہوگا کہ وہ خود بھی اس کی مار سے محفوظ نہیںر ہے گا۔نشانہ بننے والے ملک کے پاس بھی ایسے ہتھیار ہونے کی بات بعد کی ہے۔ پھر اگر یہ ہتھیار استعمال ہی نہیں ہونے ہیں، تو کس لئے رکھے گئے ہیں؟ کیا دنیا کے حاکموں کو ان سے کوئی حادثہ ہونے یا شرارت ہو جانے کا خوف نہیں؟جب اندرا گاندھی نے پوکھران میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو بار بار اعلان کیا تھا کہ اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں، اس کو صرف صنعتی فروغ کے لئے ہی استعمال کیا جائے گا لیکن واجپائی نے تین آزمائشی جوہری دھماکے کئے تو ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ یہ ملک کی دفاع کے لئے ہوںگے۔ اس کے فوراً بعد پاکستان نے پانچ دھماکے کر دئے اور دونوں غریب ہمسایہ ملک نیوکلر ملک بن گئے۔ نیوکلر ملکوں کی برادری میں شامل ہونے والے یہ دو ملک اس برادری سے وابستہ سبھی ملکوں سے غریب ترین ہیں، جو اپنی آبادی کو دو وقت کی پیٹ بھر کے روٹی نہیں کھلا سکتے۔ دُکھ کی بات ہے کہ میرا دیش ہر سال 26؍ جنوری کی فوجی پریڈ میں ان ہتھیاروں کی فخراً نمائش کرتاہے اور وہ بھی مہاتما گاندھی کی تصویر کے سامنے!!!
اس کے بعد بات آتی ہے لڑاکا جہازوں کی۔ کیا ہوتے ہیں لڑاکا جہاز ؟ کہتے ہیں کہ یہ ایسے جہاز ہوتے ہیں جو ہوا میں ہی دوسرے جہاز کے ساتھ جنگی جھڑپ کرتے ہیں، ایک دوسرے پر گولے پھینکتے ہیں۔ سوال یہ ہے اگر لڑبنا بھڑنا ضرور ی ہے تو پہلے جہاز تو نیچے اُتار لو۔ ایسا کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ جہاز آبادی کے رقبے پر گر گیا توکتنے بے گناہ لوگ مارے جائیںگے اور مر نے والوں میں معصوم بچے بھی ہوںگے، بزرگ بھی اور عورتیں بھی۔ اس سوال کا اکثر بے ہودہ جواب دیا جاتا ہے کہ وہ تو دشمن کے علاقے پر گرے گا، اپنا کیا بگڑے گا؟ جواب ندارد!
ہم نے پلوامہ کے بعد ٹی وی پر آگ اُگلتی دوطرفہ ڈائیلاگ بازی دیکھی جب ہمیں کہا گیا کہ انڈین ائر فورس نے پاربالاکوٹ میں جیش کے کیمپ پر سر جیکل اسٹرائیک کی گئی ۔ مگ ۲۱؍ طیاروں نے اندر گھس کر مارا۔ ہم کو بہت دیر اسی حساب کتاب میں اُلجھائے رکھاگیا کہ بالاکوٹ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں۔ پہلے دن 350 بتائے، پھر امت شاہ نے کہا 250 مرے ہیں، راجناتھ نے کہا پاکستان جا کر گنتی کرلو، مرکزی وزیر پوری نے کہا کہ کسی کو مارنے کا ہمارا ارادہ ہی نہیں تھا ، آخر میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے رپورٹ دی کہ وہاں کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ ہم اس پر کچھ نہیں بول سکتے صرف اُوپر والے کا شکر کریں گے کہ پار جنگی جہاز آبادی والے علاقے پر نہیں گرا ، پائلٹ ابھی نندن بھی زندہ بچا۔رب ایسا دن پھر کبھی نہ دکھائے۔
ہم ایک اور بات میں الجھے ہیں کہ رافیل (Rafale) کے سودے میں کس نے کتنی دلالی کھائی؟ کیا کمایا؟ یہ بحث اب چھوڑ کر ایک ہی مانگ کرنی چاہیے کہ یہ سودا ختم کرو۔ہم کیا کریںگے اتنے مہنگے اور وزنی جہازوں کا؟ ہم ان پیسوں سے سواری بسیں خریدیں جو سرحد کے آر پارآتی جاتی رہیں اور صرف دوستی کے پھولوں کا تبادلہ ہو۔ اس سے ہمارے ملک زیادہ محفوظ ہوگا نہ کہ رافیل جہازوں کا بھنڈار اکھٹا کر نے۔ ہم کو ’’اندر گھس کر مارنے‘‘ کی دھمکیاں بند کرنی ہوںگی۔ مارنا کبھی بہادری نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ بزدلی کی علامت ہوتی ہے۔ بہادری ہوتی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرنے میں ، سننے اور سنا نے میں، دلیل وحجت سے قائل کرنے میں، اور خود ان سے قائل ہونے میں۔ہاں، اس کے لئے چوڑی چھاتی نہیں بلکہ بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم جو اپنے بال پریوار کے ساتھ ہلاکت آفریں ہتھیاروں کے ڈھیر بر بٹھا ئے گئے ہیں، ہم کو ا س سے اوپر اُٹھنا چاہیے، بیدار ہونا چاہئے،ہمیں ایٹمی بریف کیس والوں سے بآواز بلند کہنا ہوگا کہ ہمارے پاس دیوالی اور عید منانے کے لئے بہت کچھ ہے: مسکراہٹیں ہیں ، مبارک بادیاں ہیں، ایک دوسرے کے لئے شبھ کا منائیں ہیں، خیر خواہیاں ہیں ، بس تم لوگ ہمیں خوشی کے یہ تہوار منانے کے لئے صرف زندہ چھوڑ دو۔ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اگر عید والے مر گئے تو دیوالی والے بچ پائیںگے۔ہم جانتے ہیں کہ اگر کوئی بھی بریف کیس خدانخواستہ کھل گیا تو نہ عید والے بچیںگے نہ دیوالی والے!!!اس لئے ہماری ایک ہی بِنتی ہے کہ آپ کو ووٹ ویسے ہی ڈال دیںگے بس آپ ان جوہری بریف کیسوں کو کسی سمندر کی گہرائی میںدفن کر دو اور جان لو کہ وقت آگیا ہے کہ برصغیر کے ہر گھر،ہر گلی، ہر کوچے سے یہ آواز بلند ہو نی ہے کہ یہ دوغریب ملک ایٹمی ہتھیار ختم کریں تاکہ ساری دنیا ان کو ختم کرے۔وقت آ گیا ہے یہ آواز بلند کرنے کا کہ جنگی جہازوں کی خریدداری بند کرو، ہمیں روزگار دو ، جگہ جگہ شفاخانے کھول دو، ہماری سکول بسیں مرمت مانگتی ہیں، کتابوں کی کمی ہے، ہسپتالوں میں دوائیوں کی کمی ہے، لوگوں کے سر پر چھت نہیں ہے ، یہی بنیادی ضروریات آر پار پوری کرو ۔پھر بھی اگر آپ کی چوڑی چھاتیاں ایٹمی پٹاخے کر نے سے نہیں رُک سکتیں تو جس لڑائی کو اپنی اصطلاح میں ڈاگ فائٹنگ( کُتوں کی لڑائی )بولتے ہو وہ شوق ہمارے سروں پر نہیں بلکہ کہیں دور جا کر پورا کرو جہاں انسان نہیں رہتے بستے ہوں ۔
رابطہ 9878375903