عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اے آئی آئی ایم ایس جموں کا دورہ کر کے اس کے کام کاج کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے کم وقت میں اِدارے کی شاندار ترقی پر اطمینان کا اِظہار کیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور سی اِی او ایمز جموںپروفیسر ڈاکٹر شکتی کمار گپتا نے وزیر اعلیٰ کا والہانہ اِستقبال کیا۔تقریب میں صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ راجیش شرما، ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں پروفیسر بی ایس سہائے اور ڈین ریسرچ و سربراہ ہسپتال مینجمنٹ لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر سنیل کنٹ اورایس ایم، وی ایس ایم بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے اے آئی آئی ایم ایس اِنتظامیہ، طلبأ اور طبی عملے کے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کو جدیدترین صحت نگہداشت اور تعلیمی سہولیت میں ڈھالنے پر اُن کی کوششوں کی ستائش کی۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’ایمز کا کامیاب قیام اور فعالیت، عزم اور ویژن کی طاقت کا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم کے خواب نے یہاں حقیقی شکل اِختیار کر لی ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا’’ عالمی معیار کی کوششیں اور محنت ایک ساتھ آ کر اس غیر معمولی ادارے کے قیام کا باعث بنی ہیں۔‘‘اُنہوں نے اِدارے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا،’’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایمز پہلے ہی ملک بھر کے مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے اور دہلی۔
امرتسر۔کٹرہ ایکسپریس وے کی تکمیل سے مریضوں کی رسائی میں مزید آسانی آئے گی۔‘‘ا‘نہوں نے اْمید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر کے دیگر صحت اِدارے بھی اس مثالی ماڈل کو اَپنائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے ادارے کو مکمل حکومتی تعاون اور اس کے ترقی و توسیعی ویژن کی یقین دہانی کی۔ اُنہوں نے ایمز اِنتظامیہ کی بلند حوصلہ عزائم کی ستائش کی اور اُمید ظاہر کی کہ ایمز کشمیر جلد مکمل ہو کر فعال ہو جائے گا۔اُنہوں نے ایمز جموں کی جانب سے تیار کردہ ’’ڈیزاسٹر مینجمنٹ مینوئل‘‘ کو جاری کرتے ہوئے تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ہم دلی طور پر دعا گو ہیں کہ ایسی کوئی صورتحال پیش نہ آئے جس میں اس مینوئل کی ضرورت پڑے لیکن تیاری کے نقطہ نظر سے بہتر ہے کہ یہ موجود ہو اور اِستعمال نہ ہو، بہ نسبت اس کے کہ ضرورت ہو اور دستیاب نہ ہو۔ایمز جیسے اِداروں کے یہ دور اندیش اقدامات قابل تحسین ہیں۔‘‘وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر پر حملے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے زور دیا،’’ڈاکٹروں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ وہ خود کو بے لوث طور پر وقف کرتے ہیں، اکثر اپنی ڈیوٹی سے کہیں بڑھ کر۔ اُن کی نیت اور کوششیں مخلص ہوتی ہیں اور انہیں ان نتائج کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے جو ان کے اختیار سے باہر ہوں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے،میں نے مقدمہ درج کرنے اور انصاف دلانے کی ہدایت دی ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں کو بلا خوف و خطر کام کرنا چاہیے۔‘‘وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی اِجتماع سے خطاب کیا اور ایمز جموں کو اس کے متاثر کن انفرااسٹرکچر، سرسبز و شاداب کیمپس اور طبی عمدگی کے مرکز کے طور پر اُبھرنے پر مُبارک باد دی۔ اُنہوں نے ہسپتال کے مریض دوست رجسٹریشن عمل اور علاج کی معیاری سہولیات کو سراہا۔پروفیسر ڈاکٹر شکتی کمار گپتا نے ادارے کی ترقی کا جامع جائزہ پیش کیا اور ایمز جموں کے عالمی سطح کے طبی، تحقیقی اور تعلیمی مرکز بننے کے ویژن کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ مریضوں کی رائے کے مطابق 82 فیصد ڈسچارج شدہ مریض ’’انتہائی مطمئن‘‘ جبکہ 17 فیصد ’’مطمئن‘‘ تھے۔اُنہوں نے ہسپتال کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے والے کئی اہم اعداد و شمار بھی خاکہ پیش کئے۔ اِس سے قبل وزیر اعلیٰ نے کیمپس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا جن میں تشخیصی لیبارٹریز، ٹیسٹنگ سہولیات، اِن پیشنٹ وارڈز اور جدید تعلیمی کلاس رومز شامل تھے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور عملی تیاری کا جائزہ لیا جا سکے۔