تہران// ایران نے برطانیہ پر تہران جیل میں قید برطانوی نڑاد ایرانی خاتون نازنین زاغری ریڈکلف کو سفارتی تحفظ دینے پر بین الاقوامی قوانین کو توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ برطانیہ میں ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران ان کی دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا اور انھوں نے نازنین زاغری کو صرف ایرانی شہری قرار دیا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ ردعمل برطانیہ کے وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے نازنین زاغری کو سفارتی تحفظ دینے کا کہا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایران نازنین زاغری راکلف بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی اور مالی مدد فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ سنہ 2016 میں جاسوسی کے الزام میں دی گئی پانچ سالہ قید کی سزا کے خلاف نازنین زاغری احتجاجاً بھوک ہڑتال پر تھیں۔ وہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔ برطانیہ کی جانب سے ان کو سفارتی تحفظ دینے کا مطلب ہے کہ اب ان کے مقدمے کو باضابطہ طور پر دونوں ریاستوں برطانیہ اور ایران کے درمیان قانونی تنازع کے طور پر لیا جائے گا۔ برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نازنین کو رہا کروانے میں 'جادو کی چھڑی' کا کام تو نہیں کرے گا لیکن 'یہ ایک اہم سفارتی قدم تھا۔' ان کا کہنا تھا کہ 'یہ پوری دنیا کو ثابت کرے گا کہ نازنین بے گناہ ہیں' اور انھوں نے ایران کو اشارہ دیا کہ 'ان کا رویہ انتہائی غیرمناسب ہے۔' برطانیہ میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ 'بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔' جبکہ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ نازنین کو سفارتی تحفظ دینے کے فیصلے سے ایران کو 'سخت پیغام دیا ہے۔ ایران کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ' آپ کے برطانیہ کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر بنیادی طور پر یہ ایک بے گناہ، حساس، بیمار اور سہمی ہوئی عورت ہے۔ آپ کے برطانیہ سے جو بھی اختلافات ہیں ان کی قیمت اس کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔' ایران پر پابندیاں لگانے، عالمی عدالت میں بلانے یا اس کے سفیر کو طلب کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تمام چیزیں ممکن ہیں مگر ہم اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔' ایران کی جانب سے برطانیہ پر بین الاقوامی قوانین توڑنے کے الزام پر برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں اس ملک سے 'ایسے ہی منفی ردعمل کی توقع رکھتا ہوں۔' انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 100 برسوں میں کسی برطانوی شہری کو سفارتی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ ایران نے دوہری شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔