دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود دوسری بات آمنے سامنے
ایجنسیز
سوئٹزرلینڈ //سوئٹزر لینڈمیں ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذکرات کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ مذاکرات قطر اور پاکستان کی ثالثی میںہورہے ہیں۔مذاکرات سے قبل قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکرات خطے اور پوری دنیاکی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے اہم اور تاریخی ہیں، مذاکرات میں شامل تمام ممالک کی قیادت اور ان کی کوششوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا او، مسئلے کے حل تک قطر اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ یہ عالمی امن کے لیے اہم موقع ہے، ہم مل کر دنیا میں اتحاد قائم کرسکتے ہیں۔ مذاکرات میں شرکت کیلئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا “مجھے لگتا ہے کہ ہم امید کے ساتھ جوہری معاملے پر پیشرفت کرنے جا رہے ہیں، لبنان جنگ بندی کے معاملے پر پیش رفت کریں گے، یہ وہ دو بڑی چیزیں ہیں جن پر میرے خیال میں ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے” ۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک یا دو دن کے لیے مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔سوئس وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی اور ایرانی وفود کے علاوہ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی لگژری ریزورٹ میں موجود تھے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا کہ ایران ثالثوں سے ملاقات کر رہا ہے اور پھر دوپہر میں ثالثوں اور امریکہ کے ساتھ چار طرفہ ملاقات کرے گا۔ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچا ہے ۔جے ڈی وینس کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم نئی شروعات کریں اور ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مشرق وسطی میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے، لبنان کی صورتحال پر تشویش ہے، امریکی صدر لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں متعدد مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ اب ہم ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن و خوشحالی کیلییکام کریں، ٹرمپ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم نئی شروعات کریں اور ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں، آج امن، ترقی اور بحران کے خاتمے کے لیے عظیم دن ہے۔