ایجنسیز
منیلا//فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مغربی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف نے جمعرات 23 جولائی کے روز ہونے والی اپنی دوطرفہ ملاقات میں یوکرینی جنگ کے موضوع پر بات چیت کی۔فلپائن میں منیلا اور روس میں ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل روس کی یوکرین میں مسلح مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ سے متعلق اپنی بات چیت میں سیرگئی لاوروف نے مارکو روبیو کو اس بارے میں آگاہ کیا کہ روسی نقطہ نظر سے اس وقت اس جنگ کے مختلف محاذوں پر عملی صورت حال کیا ہے۔جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ملاقات میں لاوروف نے روبیو کے ساتھ بات چیت میں یوکرین کو مغربی ممالک کی طرف سے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف خبردار بھی کیا۔
ماسکو سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق سیرگئی لاوروف نے یورپی ممالک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے اقدامات سے یوکرین کو غیر مستحکم بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔منیلا میں اس لاوروف روبیو مکالمت کے بارے میں روسی میڈیا نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات واشنگٹن کی خواہش پر ہوئی اور یہ تقریبا 35 منٹ تک جاری رہی۔امریکی حکام نے اس ملاقات یا اس میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔اس ملاقات کے حوالے سے موصولہ دیگر رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں زور دے کر کہا کہ یوکرینی تنازعے کا کوئی بھی حل امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے مابین اینکریج سمٹ کے دوران ہونے والے گزشتہ مذاکرات کی روشنی میں نکالا جانا چاہیے۔روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس ملاقات میں سیرگئی لاوروف نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی بھی تصفیے کی بنیاد وہ باہمی مفاہمت ہونا چاہیے، جس تک گزشتہ برس امریکی ریاست الاسکا میں اینکریج کے مقام پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوٹن اپنی ملاقات میں بات چیت کے دوران پہنچے تھے۔