سرینگر // آریانز کالج نے سرینگر میںجموں کشمیر کے طلاب کی جانب سے اختراعی خیالات کے سلسلے میںایوارڈ کی ایک تقریب کے دوران طلاب کی جانب سے ڈل جھیل کو صاف کرنے ،سڑکوں سے برف پگھلانے ، پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ’’سولر ڈرائر‘‘ جیسی مشینوں کے خاکے پیش کئے گئے ۔ایوان صحافت کشمیر میں منعقدہ تقریب کے دوران پدم شری اولمپین پہلوان یوگیشور دت، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن، نئی دہلی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ایم پی پونیا،ہریانہ پبلک سروس کمیشن آنند شرما اور آرینز گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر انشو کٹار موجود تھے جبکہ ویڈیو کانفرنس سے ڈائریکٹر ٹوارزم ڈاکٹر جی این ایتو، پرائیویٹ اسکول ایسو سی ایشن کے صدر انجینئر جی این وار بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران جموں کشمیر کے طلباء نے مختلف خیالات پیش کئے جن میں ڈل جھیل کو صاف کرنے کیلئے ’’ سی بن‘ مشین ، قابل تجدید توانائی کے لیے شمسی غبارہ ، نامناسب حالات کے دوران’’ سڑکوں سے برف پگھلانے‘‘ ، پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ’’سولر ڈرائر‘‘، قدموں سے توانائی پیدا کرنے کے لیے’’ پیوجن‘‘ٹریفک مینجمنٹ ایپلی کیشن شامل ہیں۔آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن، نئی دہلی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر پونیا نے کشمیری طلباء اور ان کے پراجیکٹ ڈائریکٹروںکو مبارکباد دی جنہوں نے مختلف جدید اختراعی خیالات اور پروجیکٹوں کے خاکے پیش کئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان خیلات کو عملی شکل دینے کے بعد جموں کشمیر کا سماج اور پوری قوم ماحولیاتی حالات سے نپٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو مزید بہتر کرسکتی ہے۔ پدم شری اولمپین پہلوان یوگیشور دت نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کو منی سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو کھیلوں کیلئے آگے آنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے نوجوانوں میں بہت باصلاحیت ہیں اور انہیں دولت مشترکہ ، اولمپکس وغیرہ سمیت بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے مزید مشغول کرنا بھی ایک بہترین اقدام ہوگا۔ ہریانہ پبلک سروس کمیشن آنند شرما نے آریانز میں زیر تعلیم کشمیر کے طلاب کی جانب سے اس طرح کے کفایتی منصوبے بنانے کو قابل دید قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈل جھیل میں کافی آلودگی ، تجاوزات ، بستیوں کی غیر منصوبہ بند نشوونما وغیرہ کی وجہ سے یہ شاہراہ آفاق جھیل اپنی توجہ کھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام طلباء کی رہنمائی کی جو آرینز گروپ نے کی اور انہیں مزید اختراعات کرنے کی ترغیب دی وہ مستقبل میں وادی کے کچھ عام مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔آریانز گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر انشو کٹاریہ نے کہا کہ آریانز ملک کا واحد کیمپس ہے جس میں کشمیری طلباء اکثریت میں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرینز گروپ آف کالجز میں کل 3500 طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں 2000 طلباء جموں و کشمیر سے ہیں۔ ڈائریکٹر ٹورازم نے کہا کہ آریانز گروپ نے مختلف شعبوں میں نوجوان اختراعی ذہن کے لیے ایک بامعنی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جو عام آدمی کی زندگی میں اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کے طلباء بہت سارے چیلنجز کے باوجود تعلیمی ماہرین ، اختراعات ، فنون لطیفہ ، موسیقی وغیرہ میں بہت اچھا کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ آریانز گروپ ہمیشہ جموں کشمیرکے باصلاحیت نوجوانوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ انجینئر جی این وار نے کہا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء کی اکثریت سکول جانے کے بعد آرینزمیں شامل ہوتے ہیں جہاں ان کی مہارت اور ہنر کو چمکایا جاتا ہے۔