سرینگر //حریت (ع) چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ ایل او سی پر موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، لہٰذا بھارت اور پاکستان کی حکومتیںسرحدوں پر جاری خونریز گولہ باری کو فوراً بند کرکے مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ جموںوکشمیر میں ایل او سی پر اوڑی ، سانبا اور کٹھوعہ سیکٹر میں جو جنگی صورتحال پیدا ہو چکی ہیں اس میں آر پار گولہ باری سے دونوں اطراف قیمتی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے فوجی بھی جاں بحق ہو رہے ہیں اور یہ پہلی بار ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ بار بار اور ہر سال سرحدوں پر اس قسم کی افسوناک صورتحال سامنے آتی ہے۔میرواعظ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت آر پار کشمیر جموں، لداخ، گلگت، بلتستان ، آزاد کشمیر ، اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کریںکیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اس طرح کا اقدام ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ برصغیر ہندوپاک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت ہندوستان یہ حقیقت تسلیم کریگی کہ آج نہیں تو کل انہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا پڑے گا۔میرواعظ نے میجر گگوئی کے حالیہ واقعہ کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ میجر کو ماضی میں اس کے کئے کی سزا دی گئی ہوتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کھلے عام جرائم کا ارتکاب کرتی پھر رہی ہے ۔