شہری علاقے بھی محفوظ نہیں،15برسوں سے ماحولیات سے کھلواڑ اور غیرموثر پالیسی بنیادی وجہ:ماہرین
پرویز احمد
سرینگر // جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں میں بادل پھٹنے کے واقعات لگاتار رونما ہورہے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر املاک کی تباہی اور جانوں کا ضیاع ہورہا ہے۔سرکاری ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ بادل پھٹنے کے واقعات میں پچھلے 15برسوں میں اضافہ ہوا ہے اور 2010کے بعد اس طرح کے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر موثر موحولیاتی پالیسی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کا ایک غیر یقینی سلسلہ شروع ہوا ہے، جس سے کبھی بھی تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔ ماہرین کا استدال ہے کہ مستقبل میں ان واقعات میں مزید اضافہ ہونے کااندیشہ ہے، کیونکہ جغرافیائی ساخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ، دریائوں اور جھیلوں کی آلودگی اور کرہ ہوا میں زہریلی گیسوں کے اضافہ سے شہری علاقوں میں بھی بادل پھٹنے کا خطرہ لاحق ہے اور یہ سلسلہ بند ہونے کے آثار نہیں ہیں۔
بادل پھٹنا
بادل پھٹنا بہت کم وقت میں ہونے والی بارش کی ایک بڑی مقدار ہے۔بعض اوقات بادل پھٹنے کیساتھ اولے اور گرج چمک کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر سے اٹھنے والی گرم لہروں سے بالآخرہوا کا دبائو کمزور ہو جاتا ہے اور جمع ہونے والا پانی اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ اسے روکانہیںجا سکتا۔ اس کے بعد بادل اپنے پانی کے تمام مواد کو بہت مختصر مدت میں جاری کرتا ہے، جس سے ایک انتہائی بھاری بارش ہوتی ہے۔ہوا میں نمی ایک اعلیٰ سطح بادل کی تشکیل کے لیے ایندھن فراہم کرتی ہے، جب کہ ماحولیاتی عدم استحکام تیز رفتار نقل و حرکت اور شدید بارش کے واقعات کا موجب بنتی ہے۔مون سون کے موسم کے دوران، سمندر سے نم ہوائیں اندرون ملک سفر کر تی ہیں اور پہاڑوں کی ڈھلوانوں، خاص طور پر ہمالیہ جیسے علاقوں میں بادلوں کے پھٹنے کے حالات کو بڑھاتی ہیں۔
بھاری پانی کا اخراج
بادل پھٹنے سے 5 منٹ سے بھی کم وقت میں بہت زیادہ پانی پڑ سکتا ہے۔مثال کے طور پر ایک مربع کلومیٹر پر پڑنے والی 25 ملی میٹر بارش 25,000 میٹرک ٹن پانی کے مساوی ہے، جو 10 سے زیادہ اولمپک سوئمنگ پولز کو بھرنے کے برابر ہے اور یہ آسانی سے سیلاب کے حالات پیدا کرتا ہے۔برصغیر میں، بادل پھٹنے کا واقعہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب مون سون کے بادل شمال کی طرف، خلیج بنگال یا بحیرہ عرب سے میدانی علاقوں میں آتے ہیں اورپھر ہمالیہ پر پھٹ جاتا ، جس سے 75 ملی میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بارش ہوتی ہے۔
ہلاکتیں
ایک مطالعہ نے جموں و کشمیر میں شدید موسمی واقعات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔اس طرح کے 2,863 واقعات، 2010 اور 2022 کے درمیان پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 552 اموات ریکارڈ کی گئیں۔2024 کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ 12 سالوں (2010-2022) کے دوران، جموں اور کشمیر میں کل 2,863 شدید موسمی واقعات پیش آئے جن میں 31 دسمبر 2022 تک 552 اموات ہوئیں،” ۔
دو طرح کے موسم
معروف ماحولیاتی ماہرمتھہراعابدہ دیوا کہتی ہیں کہ کشمیر کو دو طرح کی موسمی صورتحال کا سامنا ہوتاہے۔ ایک مغربی ہوائوں اور دوسری مانسون سے پیدا ہونے والی موسمی تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہوائیں اکثر نم رہتی ہیں اور مغربی ہوائوں اور مانسون کی وجہ سے ہوائوں میں نمی اور بڑھ جاتی ہیں اور جب یہ ہوائیں اوپر جاتی ہیں تو یہ بادل کی شکل اختیا کرلیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیز ہوائوں کی وجہ سے بادل ایک دوسرے سے ٹکرا کر پھٹ جاتے ہیں اور بھاری تباہی کی وجہ بن جاتے ہیں۔ عابدہ دیوا نے بتایا ’’ پہلے بھی بادل پھٹتے تھے لیکن ُان دنوں پیڑ پودوں کی تعداد کافی تھی اور اس کے بارے میں کم سنتے تھے،لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آبادی نے پہاڑوں اور جنگلات کی طرف رخ کیا، وہاں بستیاں آباد کیں، مذہبی یاترائوں کا آغازہوا اورپہاڑوں اور جنگلات میں مہم جوئی کرنے کا بھی آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قدرتی نظام، پیڑ پودوں اور ماحولیات کو زبردست نقصان پہنچایا اوریہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بادل پھٹنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ عابدہ نے بتایا کہ کشتواڑ، کھٹوعہ، مژھل، ویشنودیوی اور دیگر علاقوں میں بادل پھنے کی بڑی وجہ قدری ماحول کو زبردست نقصان پہنچانا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جنگلات میں کمی ، پہاڑوں کا کٹائو، بستیوں کا پہاڑیوں پر آباد ہونا ، مہم جوئی جیسی وجوہا ت کی وجہ سے ماحولیا ت کو نقصان ہورہا ہے جو بادل پھٹنے کی شکل میں ہمارے سامنے آرہا ہے۔عابدہ دیوا نے کہا ’’ مستقبل میں یہ واقعات شہری علاقوں میں بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ہم شہری علاقوں کا ماحول خراب کرنے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ندی نالوں کے دائیں اور بائیں بستیاں آباد کی گئی ہیں ، جہاں سے نکلنے والی ساری گندگی جہلم اور دیگر ندی نالوں کی نذر کی جاتی ہے ،جہاں وہ جمع ہوکر معمولی بارش سے سیلابی صورتحال پیدا کردیتی ہے۔عابدہ دیوا نے بتایا ’’سرینگر شہر سسمک زون 4اور 5میں آتا ہے اور یہاں زلزلہ کا خطرہ لگا رہتا ہے اور کم شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہاں بغیر کسی منصوبہ بندی کے تعمیراتی کام ہورہے ہیں اور کچھ علاقوں میں عمارتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ عابدہ نے بتایا ’’ اگر ان قدرتی آفتوں سے بچنا ہے تو منصوبہ بندی اور ماحولیاتی آلودگی کیلئے وضع قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، ان پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا ،ان میں لازمی تبدیلیاں کرنا ہونگی،اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ‘‘
زہریلی گیس کی مقدار
شیر کشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی شمالیمار میں شعبہ ماحولیات کے سربراہ پروفیسر فاروق احمد لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بادل پھٹنے کے واقعات ماحولیات سے کھلواڑ کا نتیجہ ہے، ہم نے خود ماحولیات کو تباہ کیا اور اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ‘‘ ۔پروفیسر لون نے بتایا ’’ ہمارے کرہ ہوا میں زہر آلودہ گیسوں کی مقدار کافی بڑھ گئی ہے، پہلے یہاں زہریلی گیسوں Co2 کی مقدار 280پی پی ایم تک رہتی تھی ،جو اب بڑھ کر 422پی پی ایم تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے موسمی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے مانسون سیزن میں جو بارش ایک ماہ میں ہوتی تھی وہ اب تین یا چار گھنٹوں میں ہوتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کبھی بارش نہیں یا کم برفباری ہوتی، کبھی مارچ میں، اپریل میں نہیںتو مئی میں بارش ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں کافی دیر تک بادل رہتے ہیں یا جہاں کافی دیر تک بارش ہوتی ہے، وہاں بادل پھٹنے کا خطرہ رہتا ہے لیکن جب اچانک کم وقت میں بادل پھٹے، تواسکے لئے کوئی بھی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ایسا کوئی سائنسی آلہ نہیں بنا ہے جس سے ہم زلزلہ اور بادل پھٹنے کی پیشن گوئی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اس سب سے بچنا ہے تو جنگلات کو تحفظ دینا ہوگا اور قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ سے بچنا ہوگا۔