اوڑی//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست کے امیدوار انجینئر رشید نے قبائلی بنیادوں پر تقسیم کی سیاست کو رد کرنے کیلئے اوڑی کے عوام کی تعریفیں کی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اس علاقہ کے لوگوں نے عوامی اتحاد پارٹی کی ایجاداتی اور تخلیقی سیاست کاخیرمقدم کرکے فرقہ وارانہ،علاقائی اور قبائلی سیاست کو رد کردیا ہے۔رفیع آباد اور اوڑی میں درجنوں انتخابی ریلیوں سے خطاب کے دوران انجینئر رشید نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام نے لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بڑی مشکلات جھیلی ہیں لیکن انہیں غلط سمجھا جاتا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’اوڑی اور یہاں کے قرب و جوار میں جو جوش و خروش آج لوگوں نے عوامی اتحاد پارٹی کے تئیں دکھایا اس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں کہ جو یہ دعویٰ کرتے آرہے ہیں کہ کشمیریوں کو رشوت دیکر کسی بھی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ستر سال کی قربانیوں نے لوگوں کو بہت سنجیدہ اور سیاسی طور بالغ بنادیا ہے یہاں تک کہ وہ دوست اور دشمن میں تمیز کرنا سیکھ گئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اوڑی کے بڑے زمیندار اور شہزادے ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیئے کہ اوڑی کے عوام کو این ایچ پی سی اور دیگر پروجیکٹوں میں بھرپور حصہ کیوں نہیں ملا اوران پروجیکٹوں سے فقط چند خاندانوں اوراثرورسوخ والے افراد نے ہی کیوں اپنی قسمت چمکائی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ قبائلی سیاست کرکے فائدہ بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں وہ دراصل نئی دلی کے ایجنٹ اور کشمیر و کشمیریوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ نئی دلی جموں کشمیر میں لوگوں کو فرقوں،مسلکوں قبائلوں اور نہ جانے کن کن خانوں میں بانٹنے کا وسیع ایجنڈا رکھتی ہے جبکہ بعض کج فہم افراداپنی گندی سیاست کے دوررس نتائج کے بارے میں سوچے بغیر انتہائی سستی حرکتیں کرنے میں مصروف ہیں۔