جکارتہ// انڈونیشیا کے آبنائے سندا کے ساحلی علاقے میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی کے نتیجے میں کم از کم 222 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوگئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان ستوپو پروو نگروہو کے مطابق ’چائلڈ‘ نامی آتش فشاں پھٹنے کے بعد رات ساڑھے نو بجے تباہ کن سونامی نے آبنائے سندا کا رخ کیا جس کے نتیجے میں بلند ہونے والی کئی میٹر بلند لہروں نے سیکڑوں عمارتوں کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ نگروہو نے کہا کہ اب تک 222 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور 843 زخمی ہیں جبکہ 28 سے زائد افراد لاپتہ بھی ہیں۔ جنوبی سمترا اور مغربی جاوا سے ٹکرانے والے اس سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ افراد کو ملبے سے نکالنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ تباہی کی زد میں آنے والے علاقوں میں جابجا بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور ہرسو تباہی نظر آ رہی ہے۔ سونامی آنے کے وقت کریتا بیچ پر موجود محمد بنٹانگ نے بتایا کہ فوراً اونچی لہریں آنا شروع ہوئیں جس نے چند ہی لمحوں میں سیاحوں کے مقام کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ 15سالہ بنٹانگ نے بتایا کہ ہم اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے اس مقام پر موجود تھے کہ اچانک رات 9 بجے سمندر سے لہریں بلند ہونا شروع ہو گئیں جن کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہاں نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا اور بجلی بھی منقطع ہوگئی، باہر ہر طرف تباہی تھی اور ہم اب تک سڑک تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ آبنائے سندا کی دوسری جانب صوبہ لمپنگ کے شہر کلندا کے رہائشی لطفی ال رشید نے بتایا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ساحل سے بھاگے۔ 23 سالہ رشید نے کہا کہ ’میں اپنی بائیک اسٹارٹ نہیں کر پا رہا تھا لہٰذا میں نے اسے وہیں چھوڑا اور بھاگ کھڑا ہوا، میں نے بس دعا کی اور جہاں تک بھاگ سکتا تھا، بھاگتا رہا‘۔ حکام کا کہنا ہے کہ سونامی ممکنہ طور پر آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں سمندر کے اندر وقوع پذیر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آیا ہو گا۔ یہ آتش فشاں انک کراکاٹوا سے پھٹا جو جاوا اور سمترا کے درمیان واقع آبنائے سندا میں ایک چھوٹا جزیرہ بننے کی وجہ بھی بنا۔ نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ ان دو وجوہات کے سبب ممکنہ طور پر سونامی آیا ہو گا لیکن ہم اب بھی سونامی کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ تباہی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ تباہی کی زد میں آنے والے متعدد علاقوں میں ہم اب تک نہیں پہنچ سکے۔ انڈونیشیا کی حکام یا متعلقہ حکام کی جانب سے سونامی یا زلزلے کی پہلے سے کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی جس کے سبب زیادہ تباہی ہوئی خصوصاً ساحلی علاقوں میں کرسمس کی چھٹیاں منانے کے لیے آئے ہوئے سیاح نشانہ بنے۔ انڈونیشین حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ لہریں سونامی کی وجہ بلند نہیں ہو رہیں بلکہ اس کی وجہ سمندر میں چڑھاؤ ہے لہٰذا لوگ پریشان نہ ہوں۔ البتہ ستوپو پروو نگروہو نے اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی تھی کہ زلزلہ نہ آنے کے سبب ابتدائی طور پر واقعے کی وجہ جاننا ممکنہ نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سے ابتدائی طور پر کوئی غلطی ہوئی تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ سونامی کے نتیجے میں 15 سے 20 میٹر اونچی لہریں بلند ہوئیں جنہوں نے آبنائے سندا کے اطراف میں واقع تمام چیزوں کو تہس نہس کر دیا لیکن سب سے زیادہ تباہی مغربی جاوا کے ڈسٹرکٹ بنڈگلینگ میں آئی جہاں کم از کم 33 افراد ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہو گئے۔