نئی دہلی//ٹوئٹر کے ساتھ جھگڑے کے ہفتوں بعد حکومت نے جمعرات کو سماجی رابطے اوراسٹریمنگ کمپنیوں کے لئے سخت ضابطوں کا اعلان کیا جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو قابل اعتراض مواد ہٹانا ہوگااور شکایات کے ازالے کیلئے افسر کو تعینات کرناہوگا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اورمواصلات کے وزیرروی شنکر پرساد نے کہا کہ ان ضوابط کا مقصد سوشل میڈیاپلیٹ فارموں کے غلط استعمال کوروکنا ہے اور ان کے تحت وٹس ایپ،فیس بک،ٹوئٹراوردیگر سوشل میڈیا اوراسٹریمنگ کمپنیوں جن میں نیٹ فلیکس،یوٹیوب،اورایمزون پرائم ویڈیو شامل ہیں ،کوقانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تال میل کیلئے افسر وں کاتقرر کرنا ہوگااورغلط اطلاع دینے والے کی معلومات ظاہر کرنا ہوگی اور24گھنٹوں کے اندرقابل اعتراض موادکوہٹانا ہوگا۔حکومت یاعدالت کی طرف سے نشاندہی کئے گئے کسی بھی موادکوفوری طور ہٹانا ہوگا۔ضوابط کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کوایک ریذیڈنٹ شکایتی افسر کاتقرر کرنا ہوگا جو شکایات کوچوبیس گھنٹوں کے اندر درج کرے گا اور استعمال کنندوں کی شکایات کا پندرہ روزمیں نپٹارہ کرے گا۔سوشل میڈیا کمپنیوں کو حکومت یا عدالت کی طرف سے پوچھے جانے پرغلط معلومات، جو ملک کی سالمیت اور یکجہتی کوزک پہنچانے والی ہو، دینے والے اصلی صارف کا نام ظاہر کرنا ہوگا۔ اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر اور مواصلات اور آئی ٹی کے وزیر روی شنکر پرساد نے جمعرات کو یہاں گائیڈلائنس کو جاری کرتے ہوئے صحافیوں کو یہ اطلاع دی۔ پرساد نے کہا کہ ہندوستان میں انٹرنیٹ میڈیا پلیٹ فارم کی تجارت کرنے کے لیے خیر مقدم ہے۔ حکومت تنقید کے لیے تیار ہے لیکن انٹرنیٹ میڈیا کے غلط استعمال پر بھی شکایت کا فورم ہونا چاہیے۔ اس کا غلط استعمال روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں واٹس ایپ کے 53 کروڑ، فیس بک کے 40 کروڑ سے زیادہ اور ٹویٹر کے ایک کروڑ سے زائد صارفین ہیں۔ ہندوستان میں ان کا کافی استعمال ہوتا ہے لیکن جو اندیشے ہیں ان پر کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آن لائن پلیٹ فارم پر ڈالے جانے والے مواد کے سلسلے میں رہنماخطوط بنائیں۔ اس کی ہدایت پر حکومت نے ہدایات تیار کی ہیں۔ سوشل میڈیا کے لیے بنائے گئے اہم قوانین کو تین ماہ کے اندر نافذ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے نظام میں اصلاح کر سکیں۔ باقی ضابطے مشتہر کیے جانے کے دن سے نافذ ہوں گے۔