اننت ناگ //اننت ناگ ضلع میں انتظامیہ ناکارہ ڈرنیج سسٹم کو ٹھیک کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے اور معمولی بارش بھی اب مکینوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو شروع ہوئی بارش سے قصبہ کے گلی کوچے پانی سے بھر گئے ہیںاور لوگوں کو عبور ومرور میں سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر بار یہ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اس کی روکتھام کیلئے سرکاری طور پر کوئی بندوبست نہیں کیا جارہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ تاریخی قصبہ میں چند گھنٹوں کی بارش سے پورا قصبہ ہی ڈوب جاتا ہے اورپانی پر تیر تی پلاسٹک بوتلیں اور پالتھین کے لفافوں نے انتظامیہ کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور شہر کے لوگوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب یہ معمول بن گیا ہے کہ معمولی بارش بھی اْن کیلئے پریشانی کا سبب بن کر آتی ہے اور انہیں یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ کہیں 4یا پانچ دن کی بارش ہو تو پورا شہر ہی ڈوب جائے گا۔لوگوں کاکہنا ہے کہ سرکار اور میونسپل حکام زبانی جمع خرچ سے کام لیتے ہوئے یہ دعویٰ تو کر رہے کہ شہر میں خستہ ہو چکے ڈرنیج سسٹم کو دوبارہ سے بحال کرنے کیلئے رقومات خرچ کی جا رہی ہیں لیکن ضلع میں بارشوں کے دوران سڑکوں اور گلی کوچوں جب تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں تو اس سے محکمہ کی قلعی کھل جاتی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ 2014کے تباہ کن سیلا ب میں شہر کا ڈرنیج سسٹم مکمل طور پر مفلوج ہو گیا تھا تاہم کافی عرصہ گررنے کے باوجود اس کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔غلام محمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ جب بھی محکمہ موسمیات بارشوں یا پھر برف باری کی پیش گوئی کرتا ہے تو اس دوران لوگوں کو پہلے سے ہی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے، اگرچہ محکمہ کے اہلکار یہ کہہ کر انہیں تسلیاں دیتے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ایسے میں لوگوں کے گھروں کے اندر بھی پانی جمع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہوئی موسلادھار بارش سے کے پی روڈ، سرنل بالا، فیصل آباد ،جنرل بس اسٹینڈ، جنگلات منڈی کی سڑکیں پانی کی وجہ سے تالاب کی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے مانگ کی کہ لوگوں کوناقص ڈرنیج سسٹم سے نجات دلاکر قصبہ میں نیا ڈرنیج سسٹم تعمیر کیا جائے تاکہ لوگوں کو آنے والے دنوں میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔