اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے پولنگ سے ایک روز قبل اننت ناگ سے سرینگر کی طرف محو سفر ایک مسافر بس کی ایک سیٹ پردو نوجوان جو کشمیر یونیورسٹی کے طالب علم تھے ایک دوسرے سے گفتگو میں مصروف تھے ۔ گفتگو کا موضوع انتخاب ہی تھا ۔کس پارٹی اور کس امیدوار کا کہاں کتنا زور ہے اور کس کی جیت کے کتنے امکانات ہیں۔ اس پر دونوں میں کسی قدر اختلاف تھا، اس لئے بحث طول پکڑ رہی تھی ۔گرد و نواح سے بے خبر یہ نوجوان کبھی کبھی ایک دوسرے پر برس بھی جاتے تھے ۔ گفتگو ابھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچی تھی کہ قریب ہی دوسری نشست پر بیٹھے نوجوانوں، جو ان کی گفتگو سن رہے تھے،نے اچانک غصے میں آکر انہیں ٹوکتے ہوئے کہا ۔ ’’ شرم نہیں آتی۔ اتنے سارے لوگوں نے قربانیاں دیں ۔ شہیدوں کے اتنے مزار سجے ۔ اتنے ظلم ہورہے ہیں ، اتنا جبر ہورہا ہے اورتم لوگ انتخاب کی بات کررہے ہو ۔لعنت بھیجنی ہے اس انتخابی ڈھونگ پر‘‘ ۔ ان نوجوانوں کا اتنا کہنا تھا کہ بس میں بیٹھے بہت سے لوگوں نے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر بحث کرنے والے طلباء کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ بے چارے یہ غیر متوقع رد عمل دیکھ کر کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے لگے ۔ان کے پسینے چھوٹ گئے اور زبانوں پر مہر لگ گئی ۔اس کے بعد انتخابات کی مخالفت اور بائیکاٹ کی حمایت میں کئی لوگوں نے اچھی خاصی تقریریں کیں ۔قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو کوسا اور ایک دو لوگوں نے اسلام اور جہاد پرروایتی جوشیلے انداز میں روشنی ڈالی ۔یہ واقعہ میں اس لئے بیان کررہا ہوں کہ یہ اس عوامی جذبے کا اظہار ہے جو اس وقت مقبول بھی ہے اور معتبر بھی ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ زمینی حقائق اس جذبے کے برحق ہونے کی تصدیق کررہے ہیںکیونکہ اس کی جڑیں تاریخ میں پرورش پاتے پاتے تناور ہوچکی ہیں۔یہ جذبے جس نسل کے وجودمیں فروزاں رہے ہیں، اس کے اجداد نے بے وفائی ،وعدہ خلافی ، دھوکے اور جمہوری ڈھکوسلے دیکھے اور برداشت کئے اور خودموجودہ نسل نے تیس سال تک اپنے ہی بھائی بندوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھائیں ۔ بستیوں کو تاراج ہوتے اور اپنے عزت نفس کی دھجیاں اڑتے دیکھیں ۔کوئی انسان کہاں تک یہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے، اس لئے سینوں میں آگ اور زبانوں پر شعلے نہ ہوں ،یہ ممکن نہیں ۔ کھلے عام جمہوریت کی عصمت دری ہوتی رہے ۔بلامقابلہ کامیابیوں کے اعلانات کی ایک تاریخ مرتب ہو ۔ خالق میڈ ممبران اسمبلی بھی تقدیر سازی کی مسند پر براجماں ہوں ۔ ایسے سانحوں اور عافتوں کے نتیجے میں بغاوت کی چنگاریاں نہ پھوٹ پڑیں تو اورکیا ہوگا ۔اس لئے نوجوان نسل کا بے قابو غصہ ناجائز نہیں لیکن یہ حق بجانب غصہ کہاں جارہا ہے اور اس قوم اور سماج کو کہاں لے جارہا ہے ،یہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا اور تشویشناک سوال ہے جسے نظر انداز کرنا خود کشی کرنے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے ۔
نوجوانوں کا غصہ ایک مکمل بغاوت کی صورت میں پھوٹ نکلا اورعسکری تحریک شروع ہوئی ۔نوجوانوں کی بڑی تعداد نے عسکریت کا راستہ اختیار کرلیا ۔ جو ایسا نہ کرسکے، انہوں نے ہاتھوں میں پتھر اٹھالئے ۔ پاکستان کے جھنڈے لہرائے ۔ ہندوستان سے نفرت کا اظہار کیا ۔قومی دھارے کی سیاست کو مسترد کیا ۔ انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ ہڑتالیں کیں ۔ مظاہرے کئے ۔ قربانیوں کی ایک تاریخ مرتب کی ۔لیکن اس ہمہ پہلو غم و غصے کی تیس سالہ تاریخ میں ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا،اس کا تجزیہ کئے بغیر آگے بڑھنا اماوس کی رات میں امیدوں کے تارے تلاش کرنے کی کوشش کے مترادف ہوگا ۔
تمام پہلوئوں کا تجزیہ اس کالم میں ممکن نہیں۔اس وقت چونکہ انتخابات بھی ہورہے ہیں اور بائیکاٹ بھی ہورہا ہے، اس لئے اسی ایک پہلو پر نظر ڈالنا مناسب ہوگا۔غیر جانبداری اور دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ اعتراف کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ شرمناک انتخابی دھاندلیوں کی طویل تاریخ کے باوجود بائیکاٹ ایک ناکام اور نقصان دہ تجربہ ثابت ہوا ہے جس نے کشمیر کی وادی کو ریاست جموں و کشمیر کے دیگر صوبو ں کے مقابلے میں ایک سو سال سے بھی زیادہ پیچھے دھکیل کر رکھ دیا اور جو لوگ اس ساری صورتحال پر گہرائی کے ساتھ غور کرتے ہیں ،ان کی سمجھ میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے بائیس سالہ انتخابی بائیکاٹ کے بعد اپنی قد آور سیاسی شخصیت،بین الاقوامی سیاسی حیثیت اور ہمہ گیر مقبولیت کو قربان کرکے اور پوری طرح سے سرینڈر کرکے انتخابی سیاست کا راستہ دوبارہ کیوںاختیار کرلیا ۔غالباًانہیں بیس سالہ انتخابی بائیکاٹ سے یہ احساس ہوا کہ عوامی بائیکاٹ سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے، اسے مرکز اپنے حقیر ایجنٹوں کے ذریعے پورا کرکے وہ سارے منصوبے بڑی آسانی کے ساتھ پورے کرتا ہے جنہیں پورا کرنا بائیکاٹ کے بغیر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتا ۔بائیکاٹ کے اس بیس سالہ دور میں مرحوم بخشی غلام کے ذریعے کرپشن کو ریاست میں داخل کردیا گیا ۔ خواجہ غلام محمد صادق مرحوم ،جو عام حالت میں بتہ مالنہ کا میونسپل الیکشن بھی نہیں جیت سکتے تھے، وزیر اعلیٰ بنا کر صدر ریاست اور وزیر اعظم کے عہدے ختم کردئیے گئے ۔ عدلیہ کی آزاد اور ریاستی حیثیت ختم کردی گئی ۔ ریاستی آئین میں چھید کردئیے گئے اور دفعہ تین سو ستر کو رفتہ رفتہ کھوکھلا کردیا گیا ۔یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے غالباً شیخ صاحب اس بات کے قائل ہوچکے تھے کہ بچا کھچا جو بھی ہے ،اسے اور ریاست کو مکمل محتاجی سے بچانے کیلئے انتخابی سیاست اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کی کوشش سے زیادہ ضروری ہے ۔موجود ہ مزاحمتی قیادت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی کوشش سے زیادہ اہم اور ضروری ریاست کی آئینی حیثیت میں جو بھی باقی ہے اسے بچانا ہے اسی سوچ کے نتیجے میں مزاحمتی قیادت نے آئین کی دفعہ تین سو ستر اور 35الف کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیخلاف بھرپور جدوجہد کا اعلان کیا حالانکہ مزاحمتی محاذ آئین ہند کو تسلیم کرنے سے بھی روز اول سے منکر رہا ہے پھر آئین ہند کی کسی دفعہ کے ساتھ اس کا کوئی سروکار نہیں تھا لیکن اسے بھی یہ احساس ہوا کہ آئین ہند کی دفعات میں ریاست کے وجود کی روح ہے جسے نکالا گیا تو ریاست کا وجود بے روح اور بے معنی ہوجائے گا ۔
تیس سال پہلے بائیکاٹ کا دوسرا دور عسکری تحریک کے ساتھ ہی شروع ہوا لیکن عسکری تحریک کے صرف چھ سال بعد ہی انتخابات کا اعلان ہوا ۔ حریت قیادت اور عسکری قیادت نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ۔لیکن کشمیر کی وادی، جہاں عسکریت اورعلیحدگی پسندی کا بول بالا تھا، میں بھی محدود پیمانے پر ہی سہی ووٹ ڈالے گئے۔ جموں اورلداخ کو ملا کر ڈالے گئے ووٹوں کی شرح اتنی کم نہیں تھی کہ بین الاقوامی سطح پر اسے جعلی یا ٹھونسا ہوا انتخاب قرار دیا جاتا ۔ جموں اور لداخ ریاست کے ہی حصے ہیں، اس لئے وہاں ڈالے جارہے ووٹوں کو الگ سے نہیں دیکھا جاسکتا اور خود کشمیر میں ایسے علاقے ہیں جہاں بائیکاٹ کا زیادہ اثر نہیں ہوتا ۔وجہ کچھ بھی ہو لیکن ایسا ہوتا ہے ،اس لئے ووٹوں کی مجموعی شرح کے پیش نظر بائیکاٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ بہر حال اچنبھے کی بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں وہی جماعت کامیاب ہوئی جس پر 87ء کے انتخاب میں شرمناک دھاندلیوں کا الزام تھا اور عسکری تحریک کو انہی دھاندلیوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے ۔عسکری اورعلیحدگی پسند تحریک نہ انتخابات کو روک سکی نہ اس جماعت کو برسراقتدار آنے سے روک سکی ۔ اگر بائیکاٹ نہ ہوتا تو یہ جماعت اُس وقت برسراقتدار آنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی تھی ۔نئی دہلی کی مرضی سے انتخاب ہوا اور نیشنل کانفرنس بھی اسی کی منشاء کے مطابق برسر اقتدار آئی ۔اس کے بعد نئی دہلی کی ہی منشاء سے مفتی محمد سعید کی قیادت میں ایک اور جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام عمل میں آیا اورایک وقت وہ بھی آیا جب کانگریس اور پی ڈی پی کی مخلوط سرکار کا قیام بھی عمل میں آیا ۔اور اس کے بعد پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت بھی قائم ہوئی ۔اس طرح براہ راست قومی سیاسی جماعتوں کے حکومت میں شامل ہونے کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو نئی دہلی کی اس پالیسی کا حصہ نظر آتا ہے کہ قومی سطح کی جماعتیں مقامی جماعتوں کی جگہ لیں۔یہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کی سوچ کا حصہ ہے جو خصوصی حیثیت کے بچے کھچے ڈھانچے کو منہدم کر نے کا راستہ ہموار کرسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومتوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر کے تین صوبوں میں کشمیر ہر شعبے میں کتنا پچھڑ گیا، اس کا ثبوت جموں اور لداخ کی مکمل طور پر بدلی ہوئی صورت سے مل سکتا ہے ۔ثبوت اوردلیل کے طور پر اور بھی بہت کچھ ہے جس کی وضاحت کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ وادی کے لوگ اسے بخوبی سمجھ رہے ہیں لیکن پھر بھی بائیکاٹ کی حمایت میں وہ مزاحمتی قیادت کے ساتھ ہیں ۔اس کی وجہ بھی سب جانتے ہیں ۔ لیکن اس سے پہلے کہ مجبوریاں اور لاچاریاں حد سے گزر جائیں اور بائیکاٹ کی اپیل وقت کے سفاک ہاتھوں سے ہوا میں تحلیل ہو ، سٹریٹجی کو تبدیل کرنے پر غور کیا جانا چاہئے ۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر