اسلام آباد// امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان میں سے سوشل میڈیا پر ملنے والی دھمکیوں کے پیش نظر واشنگٹن نے اسلام آباد سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مدد طلب کرلی۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے گورنمنٹ اشورنس کو بتایا کہ ‘سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تضحیک آمیز مواد لکھنے والے کو گرفتار کرنا بہت مشکل ہے’۔ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ڈائریکٹر کیپٹن (ر) محمد شعیب نے قانون سازوں کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی حکام نے ایف آئی اے سے رابطہ کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دینے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تاہم اس ضمن میں کسی مشتبہ شخص کی نشاندہی نہیں کی گئی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے ڈان کو بتایا کہ امریکی حکام کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ وزارت خارجہ کے ذریعے ایف آئی اے سے رابطہ کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ ‘ملزمان کے خلاف تحقیقات کی درخواست پر عملدرآمد سفارتی راہداری کے ذریعے ممکن ہوگا اور اسی راہداری کے زریعے مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں گی’۔سوشل میڈیا پر عمران خان کی تصویر بطور ہندو دیوتا نشر سے متعلق سوال پر انہوں ںے کہا کہ 17 مختلف اکاؤنٹس سے تصویریں شیئر کی گئیں جن میں سے 15 اکاؤنٹس بھارت جبکہ دو کا تعلق پاکستان سے ہے۔انہوں ںے مزید بتایا کہ پاکستان میں موجود دو اکاؤنٹس میں سے ایک نے اپنا اکاؤنٹ مستقل طورپر بند کردیا جبکہ ایک تاحال فعال ہے۔محمد شعیب نے بتایا کہ سوشل میڈیا کو امریکا سے کنٹرول کیا جاتا ہے اس لیے امریکی ویب ماسٹر کو مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے درخواست لکھی جا چکی ہے جس میں درخواست کی گئی کہ تصویروں کو ابتدائی مرحلے میں شیئر کرنے والے کی تفصیلات فراہم کرے۔دوسری جناب رکن قومی اسمبلی رامیش لعل نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔رکن قومی اسمبلی لعل چند ملہی نے واضح کیا کہ جس اکاؤنٹ سے متنازع تصویر شیئر کی گئی اس کے لاکھوں فلوورزہیں.