عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستان نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی عملے کے ارکان کے ساتھ تین تجارتی بحری جہاز پچھلے چار دنوں میں عمان کے ساحل پر امریکی فوج کے حملے کی زد میں آئے جس کے نتیجے میں تین سیلر ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ سختی سے اٹھایا ہے۔یہ امریکی بحریہ کا ہندوستانی عملے کے ساتھ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا پہلا عوامی اعتراف تھا۔ ایک آئل ٹینکر، ماریویکس، جس میں 24 ہندوستانی بحریہ عملے کے افراد سوار تھے،پر 8 جون کو امریکی افواج نے حملہ کیا۔ عملے کے تمام ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔ 10 جون کو، امریکہ نے پلا کے جھنڈے والے ایک اور ٹینکر سیٹبیلو کو نشانہ بنایا، جس میں سوار 24 ہندوستانی ملاحوں میں سے تین ہلاک ہو گئے۔
بدھ کو ہونے والے حملے کے بعد، وزارتِ خارجہ نے امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو طلب کیا اور انہیں احتجاج کا ڈپلومیٹک نوٹ سونپ دیا۔وزار خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بین وزارتی میڈیا بریفنگ میں کہا، “ہم اپنی سمندری عملے کی فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب ایم ٹی سیٹبیلو جہاز پر یہ خاص حملہ ہوا، تو ہم نے امریکی فریق کے ساتھ سخت احتجاج درج کروایا،” ۔انہوں نے کہا “ہم نے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور انہیں حملوں کے جاری واقعات پر ہماری گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ ہم نے اپنا شدید احتجاج بھی درج کرایا،” ۔جیسوال نے زور دے کر کہا کہ ان حملوں کو رکنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ “ہم نے مزید بتایا کہ تنازع کے پرامن حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے، اور یہ کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے بلا روک ٹوک رسائی ہونی چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا، “لہٰذا، ہم نے ان میں سے ہر ایک نکتے پر اپنی پوزیشن بالکل واضح کر دی، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارے لوگوں کی زندگیاں، ہمارے لوگوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کتنی اہم ہے۔”جیسوال نے کہا کہ یہ حملے خطے میں تعینات امریکی بحریہ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔