جموں// ریاستی پبلک سروس کمیشن کی ایک نوٹیفکیشن کے مطابق کے سی ایس جوڈیشل اور رینج افسرز گریڈ 1 فارسٹ امتحانات 23 مارچ سے 4 اپریل تک سرینگر اور جموں میں منعقد ہونے والے تھے ۔ ان امتحانات کیلئے پہلے دو پرچوں کا امتحان معمول کے مطابق لیا گیا البتہ جموں سنٹر میں رینج افسرز جنرل نالج کا پرچہ جو 25 مارچ کو لئے جانے والا تھا ، غلط ڈبے میں پیک تھا کو 24 مارچ کو چند اُمیدواروں کو دیا گیا البتہ مذکورہ سُپر وائیزر نے جب یہ پایا کہ یہ پرچہ اصل پرچہ نہیں ہے ، انہوں نے فوری طور دوسرے ڈبے میں موجود صحیح پرچہ اُمیدواروں میں بانٹ دیا جس کے بعد 24 مارچ کو دونوں امتحانی مراکز میں ای ایس ایس اے وائی پیپر کا امتحان پُر امن طریقے سے منعقد ہوا ۔ اس کے بعد سرینگر سنٹر کے اُمیدواروں نے فون کالز کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ 25 مارچ کو لئے جانے والا لازمی جنرل نالج پیپر کو جموں سنٹر میں چند اُمیدواروں نے دیکھ لیا ہے جو چند اُمیدواروں نے واٹس اپ پر بھیج دیا ۔ اس کے بعد چند سوالات کو اصل پرچے سے ملایا گیا جس کے بعد یہ پایا گیا کہ کوئی بھی سوال اصل پرچے سے میل نہیں کھاتا تھا ۔ امتحان کی شفافیت کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا کہ 25 مارچ کو لئے جانے والا پرچہ موخر کیا جائے گا ۔ سرینگر سنٹر کے چند اُمیدوار بے وجہ رینج افسر گریڈ 1 فارسٹ پرچے کے جموں سنٹر میں لیک ہونے کی افواہ پھیلا رہے ہیں ۔ ڈپٹی کنٹرولر کے مطابق سرینگر سنٹر میں شامل چند اُمیدوار جان بوجھ کر امتحان میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور انہوں نے کمیشن کے امتحانی ہال میں زبردستی گُھس کر اس کا دروازہ اور کھڑکیاں توڑیں اور امتحانی ہال میں موجود اُمیدواروں سے امتحانی پرچے چھینے ۔ ان امیدواروں کی اس بے جا مداخلت سے انہیں اُمیدواری سے برخاست کرنے اور کمیشن کی طرف سے مستقبل میں لئے جانے والے امتحانات سے بھی برخاست کرنے کی گنجائش ہے ۔ ڈپٹی کنٹرولر نے یہ معاملہ متعلقہ پولیس سٹیشن کے ساتھ اٹھایا ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ڈویژنل کمشنر کشمیر نے بھی معاملے کے حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ اس تناظر میں تمام متعلقین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ باٹنی ، سلوی کلچر اور فیلڈ کراپ پرچوں کیلئے سرینگر سنٹر میں لئے جانے والے اُن امیدواروں کے امتحان جو ہال میں موجود تھے اور جنہیں امتحانی پرچہ لکھنے نہیں دیا گیا اور امتحان میں رخنہ ڈالنے والے اُمیدواروں کیلئے مذکورہ پرچوں کے امتحان کا فیصلہ ایف آئی آر ، ڈی جی پولیس اور صوبائی کمشنر سے موصول رپورٹ کے بعد لیا جائے گا ۔