کابل // امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہوگیا‘ کابل میں جشن‘ خوشی میں افغانستان کا دارالحکومت فائرنگ سے گونج اٹھا‘ پینٹاگون نے کابل سے آخری فوجی کی واپسی کی تصدیق کر دی، رات گئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل میکنزی نے مکمل انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا طیارہ امریکی فوج کے آخری گروپ کو لے کر کابل ائرپورٹ سے ٹیک آف کرگیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ انخلا آپریشن کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا، گزشتہ 17 دنوں میں امریکی فوج نے تاریخی ہوائی آپریشن کیا۔امریکی صدر نے کہا کہ طالبان نے محفوظ راستہ دینے کا وعدہ کیا ہے، عالمی برادری افغان طالبان کو وعدوں کا پابند بنائے گی، بین الاقوامی برادری طالبان سے سفری آزادی کی توقع رکھتی ہے۔دوسری جانب طالبان نے کابل ائرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ طالبان رہنما انس حقانی اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ20 سالہ جد وجہد کے بعد افغانستان مکمل طور پر آزاد ہے‘ طالبان نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال بعد امریکا اور نیٹوفوج کا قبضہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔وسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان سے دہشت گردی کے حوالے سے طالبان کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے2 ہفتے سے بھی کم وقت میں اس طالبان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موقف میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ بھارت نے سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کے طور پر اس بیان پر دستخط کر دیے، جس میں دہشت گردی کے حوالے سے طالبان کا نام حذف کر دیا گیا ہے۔ اس دوران خوست میں بڑی ریلی نکالی گئی جس میں امریکا اور نیٹو کا علامتی جنازہ بھی نکالا گیا۔