کابل//افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ کے درمیان اقتدار میں اشتراک کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیںجس سے افغانستان میں سیاسی بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔اشرف غنی کے ترجمان نے ٹوئٹر پر کہا کہ عبداللہ عبداللہ امن مذاکرات کیلئے کونسل کی سربراہی کریں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کابینہ میں بھی شامل ہوں گے۔دونوں حریفوں نے اقتدار میں اشتراک سے متعلق ایک نئے معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے بعد افغانستان کو سیاسی بحران سے نکالنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس معاہدے میں عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مستقبل میں امن مذاکرات کی قیادت کرسکیں گے۔خیال رہے کہ 29 فروری کو قطر میں امریکا اور طالبان کے مابین افغان امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔مذکورہ مذاکرات میں افغان حکومت کو بطور فریق شامل نہیں کیا گیا لیکن اشرف غنی نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے کے حوالے سے کہا تھا کہ تمام فریقین اس معاہدے کی پاسداری کریں گی۔حالیہ پیش رفت سے متعلق رواں ماہ کے آغاز میں عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ ’ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے اور متعدد اصولوں پر ایک عارضی معاہدے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے‘۔اس سے قبل اشرف غنی کے ساتھ ہوئے اقتدار کے ایک معاہدے کے تحت عبداللہ عبداللہ افغانستان کے ’چیف ایگزیکٹو‘ رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ برس ہوئے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں وہ اس عہدے سے محروم ہوگئے تھے۔