ریحانہ شجر
ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کسی تعارف کی پابند نہیں ہے۔ درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے احساسات اور زندگی کے تجربات کو تحریر کرکے مثال قایم کی ہے۔ ان کی اشاعتوں کی ایک لمبی فہرست میرے سامنے ہے، جن میں تین افسانوی مجموعے ’’ چنار کے برفیلے سایے‘‘،’’ خاموش آسمان ‘‘ اور ’’چاند میرے روزن پہ‘‘ قابل تحسین ہیں۔ چونکہ نیلوفر صاحبہ فارسی کی استاد رہ چکی ہے،ان کا فارسی قاعدہ ، زیر عنوان ’’فارسی کی طرف پہلا قدم‘‘ 2006 میں شائع ہوچکا ہے۔ زیر عنوان ’’ فارسی کی طرف دوسرا قدم ‘‘ 2012 میں مصنہ شہود پر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ’’غنی کشمیری حیات اور شاعری ‘‘،’’ شاہنامہ کشمیر ‘‘اور کئی سفر نامے انہوں نے تحریر کئے ہیں۔
محترمہ نیلوفر کا تحریر کردہ افسانوی مجموعہ’’چنار کے برفیلے سائے‘‘ سب خوبیوں سے لبالب ہے۔
پہلا افسانہ پڑھا ، کافی دلچسپ لگا۔ دوسرا اور تیسرا پڑھ کے پورا مجموعہ ختم کرکے ہی دم لیا۔ مختصر ہونے کے باوجود کوئی کہانی ادھوری یا نامکمل نہیں لگتی۔ میری نظر میں اختصار ہی نیلوفر جی کے افسانوں کا خوبصورت و متاثر کن پہلو ہے۔ بیشتر کہانیاں بیانیہ تیکنک میں لکھی گئی ہیں۔29 کہانیوں پر مشتمل افسانوی مجموعہ معیاری سطح پر بلندیوں کا حامل ہے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود، ظلم کے خلاف احتجاج ، اخوت، محبت ان کے افسانوں کا خاصا ہے اور ایک اہم بات ان افسانوں کے کردار اور کہانیاں ہمارے اڑوس پڑوس کی اور ہمارے معاشرے کی داستان ہے۔ہر افسانے کی تفیصلاً بات کرنا ممکن نہ بھی ہو لیکن چند ایک کا ذکر کرنا لازمی ہے۔
پہلے افسانے ’’تم نہیں اور سہی‘‘کی بات کریںتو یہ ایک منفرد کہانی ہے، جس میں مصنفہ نے پروفیسر تسلیمہ اور پروفیسر سلیم کے بیچ بڑھتے تعلق کو عمدہ طریقے سے پیش کیا ہے اور جب پروفیسر تسلیمہ اُن کو ایک روز گھر لے کے آتی ہے تو پروفیسر سلیم کو پروفیسر تسلیمہ کی بہن ڈاکٹر سائرہ پر نظر پڑتی ہے۔اس کہانی کا آخری بند کچھ یوں ہے:
’’باجی آج تمہارے پروفیسر صاحب پھر آئے تھے‘‘۔’’کب؟ کیوں ؟ کیسے ؟ ‘‘
’’وہ شاید آج مجھ سے ملنے آئے تھے۔۔۔ شاید انہیں ۔۔۔ وہ ۔۔۔ شاید ۔۔۔ میں‘‘ وہ بڑبڑا رہی تھی مگر کوئی جملہ اس سے نہیں بن رہا تھا ۔
’’کیا تمہیں بھی وہ پسند ہیں۔۔۔ سچ بتاو ۔۔!‘‘باجی نے اپنے لفظوں پر بہت زور ڈالا ۔
’’ہاں۔۔۔ شاید۔۔۔ مجھے بھی۔۔۔ باجی۔۔۔وہ پروفیسر صاحب مجھے پسند ہیں اور ان کو بھی میں پسند ہوں۔‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔یکبارگی کئی شیشوں کے ٹوٹنے کی آواز آئی جو صرف تسلیمہ کو سنائی دی۔
ایک اور کہانی’’ تلاش‘‘ کے عنوان سے ہے جو قاری کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ اس کہانی میں مصنفہ نے معاشرے کا چہرہ سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ کہانی میں والدین بیٹے ریاض کو کسی پرائیویٹ کالج میں پڑھا کر انجینئر بناتے ہیں جو امریکہ میں کام بھی کرتاہے۔ والدین کو اس کےلیے ایک ایسی لڑکی کی تلاش ہے جو انجینئر ہو ۔ بسیار تلاش کے بعد انہیں من پسند رشتہ مل بھی جاتا ہےاور شادی ہوجاتی ہے ۔ شازیہ کے لئے ٹکٹ بھیج دوں گا ،یہ کہہ کر لڑکا واپس امریکہ کے لئے روانہ ہوتا ہے ۔ جب انتظار طویل ہوجاتا ہے تو شازیہ کے والدین بیٹی کو امریکہ بھیج دیتے ہیں۔ اس کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔
امریکہ پہنچ کر شازیہ نے دیکھا کہ ریاض کے گھر میں ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ شازیہ نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ کون ہے۔ لیکن وہ لڑکی سامنے آئی اور ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔
’’میں ڈاکٹر صایمہ ، مسز ریاض اور آپ۔۔۔۔‘‘
’’مسز ریاض ؟‘‘ حیرانگی سے شازیہ تقریباً چلا اٹھی ۔ وہ ایک نظر ڈاکٹر صایمہ کو دیکھ رہی تھی اور ایک نظر ریاض کو۔ اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے اور کیوں کہہ رہی ہے۔ اُس نے اپنے لفظوں کو دہرایا ۔’’مسز ریاض؟‘‘ڈاکٹر صایمہ بول اٹھی’’ جی ہاں دولہن صاحبہ میں اس کی بیوی ہوں اور وہ بھی One piece میں ۔‘‘
’’تو پھر میں کون ہوں ؟‘‘
ریاض نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔’’تم میرے والدین کی بہو ہو اور وہ بھی انجینئربہو !‘‘
ڈاکٹر نحوی چونکہ فارسی کی اُستاد رہ چکی ہیں، اس زبان کی شیرینی اور لذت ان کے افسانوں میں بھی رس گھول رہی ہے۔ ’’ بدلتی نظریں‘‘افسانے میں اس کی ایک جھلک ملتی ہے ۔
’’بہو، ابھی میرا بیٹا زندہ ہے۔ تم ان بچوں کو یتم کیوں کہتی ہو؟‘‘ ابا کو یہ بات برداشت نہیں۔ وہ اُٹھ کر چلا گیا ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ہونٹوں تلے کہہ رہا تھا۔
’’ جگر جگر است دِگر دِگر است ۔‘‘
پروفیسر حامدی کشمیری ڈاکٹر نحوی کے بارے یوں رقم طراز ہے:’’نیلوفر ناز کے افسانوں کا اسلوب لسانی برجستگی اور حقیقت کو خواب میں بدلنے کا جو انداز ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ انکی افسانہ نگاری کی یہ خوبی بھی نمایاں ہے کہ وہ کرشن چندرانہ طول و طویل تمہید و بیان سے اعتراض کرتی ہے۔ اختصار پسندی ان کے افسانوں کی پہچان ہے۔ ایک چھوٹا سا گھریلو واقعہ سامنے آتا ہے اور قاری اس کے اثرواقتدار سے متاثر ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا تمہیدی جملہ اور پھر اس کا خاتمہ تلازمات suggestivity کا غماز ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’چنار کے برفیلے سایے‘شایع ہورہا ہے۔‘‘
سادگی اور اختصار کی چھائوں تلے ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی نے ہر موضوع پر طبع آزما ئی کی ہے۔ وہ سیاسی بربریت ، سماجی گھٹن، اقتصادی بدحالی کو پہلے باریک بینی سے پرکھتی ہیں۔ اس کے بعد اپنا منفرد ، راستہ چن کر اپنی بات قاری تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نیلوفر کی توجہ گھریلو انہدام اور انتشار پر مرکوز رہتی ہے جو اکثر پرانی اور نئی نسلوں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ جس کا تذکرہ، ’’آشیانہ‘‘اور’’ہزار کا نوٹ‘‘ جیسے افسانوں میں ملتا ہے۔
’’آشیان‘‘ بڑھاپے میں اولاد کے بدلے ہویے رویے کی داستان ہے۔ اس کی آخری جھلک روح کو ہلا دیتی ہے۔ جب باپ اپنی بیٹی سے کہتا ہے۔
’’اپنے بھائی سے کہنا مجھے زہر کھانے کی ضرورت نہیں پڑی، میری دعا قبول ہوگئی ۔‘‘ اور اسی کے ساتھ اس نے اپنی آنکھیں بند کی۔ آرام اور سکون ان کے چہرے پر چھا گیا۔
ہزار کا نوٹ بھی ایسی ہی روداد نظر آتی ہے۔ جہاں ایک ماں ہمیشہ اپنے بیٹے کو ہفتے میں ایک بار ہزار روپے کا نوٹ گاڑی کے پٹرول کےلئےخوشی خوشی دیتی ہے۔ اور بیٹا I love you کہتا ہے۔جب وہ ڈاکٹر بنے گا تو ماں کو روز ایک ہزار روپےدینے وعدہ بھی کرتا ہےاورجب وہ وقت آتا ہے۔ بیٹا اپنی ماں سے کیا ہوا وعدہ بھول جاتا ہے۔
چونکہ ماں کو بیٹے کا کیا ہوا وعدہ یاد ہوتا ہے اور آزمانے کےلئے بیٹے سے ایک ہزار روپے مانگتی ہے۔ بیٹا پہلی بار خوشی سے دیتا اور دوسرے مہینے مانگنے پر بھی دیتا ہے۔ پر تیسری دفعہ ۔۔۔ بیٹے کا لہجہ دیکھیے ،’’اب تمہیں مانگنے کی عادت پڑگئی ۔ اب تمہیں روز ہزار کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیا اب باپ تمہیں کچھ نہیں دیتا ہے؟ میری بھی ہزار ضرورتیں ہیں ۔۔۔! آج کل مہنگائی بھی تو کتنی ہے؟ ہزار۔۔۔ ہزار ۔۔۔یہ کوئی چھوٹی رقم تو نہیں ہوتی۔۔۔ ماں نے دونوں آنکھیں میچ لیں ۔۔۔ بیٹے سے کچھ نہیں کہا۔ بوجھل قدموں سے آنکھوں میں آنسو لئے واپس مڑی۔‘‘
بے شک ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کے قلم نے جن سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں کو چھوا ہے، وہ ہر خاص و عام کے دل پر دستک دیتے ہیں۔ ان کے افسانے محض کہانیاں نہیں بلکہ زندگی کے وہ آئینے ہیں جن میں ہر قاری اپنا عکس دیکھ سکتا ہے۔
زیر نظر مجموعہ ’’چنار کے برفیلے سایے‘‘ میں مصنفہ نے جس فنکاری اور نفاست سے کہانیوں کے اختتامیے تراشے ہیں، وہ قاری کے ذہن پر ایک دیرپا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ہر کہانی ایک مکمل افسانوی universo ہے جس میں داخل ہو کر قاری اپنے آس پاس بکھری ہوئی انہی سچائیوں سے دوبارہ روبرو ہوتا ہے۔یہ مجموعہ نئی نسل کے قلمکاروں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہے جو فن افسانہ نگاری کے میدان میں اپنے قدم رکھنا چاہتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کی یہartistic journey انہیں اردو افسانے کی معاصر تاریخ میں ایک ممتاز اور بلند مقام عطا کرے ۔ آمین