یروشلم//دنیا کے چھ طاقتور ممالک اور ایرا ن کے درمیان نیوکلیائی معاہدہ کی تجدید کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے اورایران کو گھیرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ اب اسرائیل بھی کود پڑا ہے ۔ان دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ چھ طاقتور ممالک اور ایران کے درمیان نیوکلیائی معاہدہ کی تجدید نہ ہو۔ایران کی گھیرا بندی کیلئے نئے نئے ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی ہیں جن کے مطابق ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی۔ خبروںکے مطابق انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے ہزاروں ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دنیا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ اس نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ایران نے 2015 میں ایک معاہدے کے تحت اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں مغربی ملکوں نے اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ ایران نے اسرائیل کے اس دعوے کی تردید کی ہے ۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ یہ' 'پرانے الزامات کی تکرار ہے ' 'جن سے اقوام متحدہ کا ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کا ادارہ پہلے ہی نمٹ چکا ہے ۔ جواد ظریف نے نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ یہ ان کی طرف سے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قبل متاثر کرنے کا بچگانہ ہتھکنڈا ہے ۔ ایران کہتا ہے کہ وہ صرف پرامن ایٹمی توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے جو معلومات دی ہیں وہ اس سے مطابقت رکھتی ہیں جو امریکہ کو ایران کے خفیہ ایٹمی اسلحہ پروگرام کے بارے میں پہلے سے حاصل کردہ معلومات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے نیتن یاہو کی پریزنٹیشن کا ایک حصہ دیکھا ہے اور یہ صورت حال 'ناقابل قبول' ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ 12 مئی کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ برقرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے سخت مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ 'شرمناک' ہے ۔ انھیں 12 مئی سے قبل اس معاہدے کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے ۔تاہم یوروپی ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے ۔ تل ابیب سے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دستاویزات دکھا کر کہا کہ یہ ان دستاویزات کی نقول ہیں جو اسرائیلی جاسوس ادارے نے تہران سے حاصل کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 55 ہزار صفحات اور 153 سی ڈیز پر مشتمل یہ دستاویزات ایران کے ایٹمی اسلحے کے پروگرام سے متعلق ہیں جس کا خفیہ نام 'پروجیکٹ آماد' تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پروجیکٹ کا واضح مقصد پانچ ایٹم بم تیار کرنا تھا، جن میں سے ہر ایک کی طاقت دس کلو ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوتی۔ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی حاصل کردہ دستاویزات ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے اہم اجزا پر کام کیا تھا جن میں ان کا ڈیزائن اور ایٹمی تجربے کی تیاری شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی تجربے کے لیے پانچ مختلف جگہوں پر غور کیا تھا۔یو این آئی