آبنائے ہرمز کھول دی گئی،جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کو خطرہ لاحق
واشنگٹن // اسرائیل کی فوج نے جمعہ کو پورے جنوبی لبنان میں راتوں رات اہداف کو نشانہ بنایا جس کے بعد علاقے میں شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔اس واقعہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے نئے معاہدے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے کیونکہ فریقین کے درمیان سوئزر لینڈ میں ،طے شدہ معاہدے کے مطابق، جمعہ کو مذاکرات ہونے جارہے تھے، جنہیں ملتوی کردیا گیا ہے۔جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنا مجوزہ سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔ نئے دستخط شدہ معاہدے میں “لبنان سمیت تمام محاذوں پر” فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔معاہدے میں لبنان کی “علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنانے کے لئے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت تک لبنان میں موجود رہیں گی جب تک حزب اللہ سے خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایران جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششوں پر طے شدہ مذاکرات ہونے جارہے تھے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو اپنا سوئٹزرلینڈ کا دورہ ملتوی کر دیا جہاں وہ مذاکرات کی قیادت کرنے والے تھے۔ وائٹ ہاس نے لاجسٹک مسائل کو مورد الزام ٹھہرایا، لیکن یہ اعلان اس بات کے بعد کیا گیا کہ ایران لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی مہم پر اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے میں انکار کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ پیلس آف ورسیلز میں کھانا کھانے کے دوران ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوا۔دستخط کے بعد تبصروں میں، وینس نے اسرائیل کو دو ٹوک انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ “پوری دنیا کے واحد سربراہ مملکت ہیں جو اس وقت اسرائیل کی قوم کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔”یہ مذاکرات 60 روزہ عمل کا آغاز تھے جس کا مقصد جنگ کے مستقل خاتمے، سکیورٹی معاملات اور دیگر طویل المدتی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات طے شدہ مقام میں منعقد نہیں ہوں گے، تاہم مذاکرات کے لیے تیاریاں جاری رکھی جائیں گی۔مذاکرات میں امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے نمائندوں کی شرکت متوقع تھی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق جے ڈی وینس فی الحال سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہو رہے، تاہم امریکہ جلد از جلد تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع کرنے کا خواہاں ہے۔وینس نے جمعرات کو کہا تھا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔انہوں نے اسرائیلی حکومت کے بعض ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اس وقت دنیا کے واحد طاقتور رہنما ہیں جو اسرائیل کے مضبوط حامی ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ نے عبوری معاہدہ “مجبوری” میں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ براہ راست مذاکرات کا مطلب امریکی مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو وہ معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔رپورٹس کے مطابق جمعرات اور جمعہ کے دوران چند چینی، ہانگ کانگ اور جاپانی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج فارس سے روانہ ہوئے، جس سے تجارتی سرگرمیوں کی جزوی بحالی کا اشارہ ملا ہے۔