انتیس یا تیس دنوں پر مشتمل عظیم اور محبوب ترین مہینہ جلوہ افروز ہونے والا ہے ۔اس مہمان ِ گرامی کی عزت و تکریم کر نا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اس مبار ک مہمان کو ہم جتناتواضع اور خاطر داری کریں گے اتنا ہی ہمارے لئے بہتر اور مفید ثابت ہوگا۔ یہ معزز مہمان مختصر مدت تک ہی قیام کرے گا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہم کیا رویہ اور سلوک اختیار کریں گے ۔کیا ہم اس مہمان کے تمام حقوق ادا کریں گے جس کا تقاضا وہ ہم سے کرتا ہے ۔ کیا ہم اس مہمان کے مطالبات پورا کریں گے جس کو اس نے ہم پرلازم ٹھہرایا ہو؟ کیا ہم اس مہمان کے سبھی آداب ملحوظ نظر رکھیں گے جن کا وہ حق دار ہے؟ ۔ کیاہم اس مہمان سے وہ تمام خیر و برکت کی نعمتیں سمیٹیں گے جن کو وہ اپنے ساتھ لائے گا ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر نہ صرف غور کرنے کی ضرورت ہیںبلکہ احتساب کرنا بھی لازمی امر ہے ۔ اگر احتساب ، شعور اور ایمان کے ساتھ مہمان کے آداب و مطالبات پورے نہیں ہوئے تو اس سے بڑھ کر مہمان کی بے عزتی اور بے قدری کیا ہوسکتی ہے ؟اس عظیم مہمان کی عزت و احترام اللہ کے رسول ﷺ اور اصحاب رسول رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کرتے تھے ۔اس کا باضابطہ استقبال کرتے تھے ۔ اس وقیع مہمان کی آمد پر اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ ایک جامع خطبہ فرمایا جس میں مہمان کی قدر وقیمت اور اس کی افادیت بیان کی ۔ حضرت سلمان فارسی ؓسے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی اخری تاریخ کو اللہ کے رسول ﷺنے خطبہ دیا جس میں انہوں نے فرمایا: لوگو!تم پر ایک عظمت اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ۔ اس مبارک مہینے کی ایک رات ہزار مہینے سے بہترہے ۔اس مہینے کی روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے۔ اس کی راتوں میں بارگا خدا وندی میں کھڑے ہونے کو نفل عبادت قرار دیا ہے ۔ جو شخص اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی نفل عبادت ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا ۔ اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ملے گا ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔۔۔(بیہقی)اس بلیغ اور جامع خطبے میں چند قابل ذکر پہلو یہ ہیں :
۱؍ اس ماہ مبارک میں شب قدر ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا ۔۔
۲؍ اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ملے گا ۔ جو سنت و نوافل ادا کرے گا اس کو فرضوں کے برابرثواب ملے گا
یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے
۳؍یہ ہمدردی اور غم گساری کا مہینہ ہے ۔
اس خطبے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رمضان کی آمد کے موقعے پر اللہ کے رسول ﷺخود بھی ذہنی و عملی طور پر تیار رہتے تھے اور اور صحابہ کو بھی ترغیب دیتے تھے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : احصوھلال شعبان لرمضان ۔ یعنی شعبان کے چاند کو خوب اچھی طرح گنو ۔ ایک روایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتحفظ من شعبان مالا یتحفظ من غیرہ یعنی رسول اللہ ﷺ ماہ شعبان کے دن اور اس کی تاریخیں جتنے اہتمام کے ساتھ یاد رکھتے تھے، اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے ۔(ابو داؤد)استقبال رمضان کے تعلق سے حضور ﷺسے یہ دعا بھی وارد ہے : اے اللہ ہمیں رجب و شعبان میں برکت دیں اور رمضان تک صحیح سلامت پہنچا دیجئے۔
اللہ کے رسول ﷺ ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان میں بھی کثرت سے روزہ رکھتے تھے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مارایتہ شہر اکثر منہ صیاماََفی شعبان۔ یعنی میں نہیں دیکھا کہ آﷺ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفل روزے رکھتے ہوں ۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ماہ ِ شعبان رمضان المبارک سے قریب تر مہینہ ہے۔ لہٰذاذہنی اور جسمانی طور سے بھی تیاری کے لئے موزوں اور مناسب مہینہ ہے ۔ اتنی جوش اور ایمانی جزبے کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ ماہ رمضان کا استقبال کیوں فرماتے تھے ۔ کیوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے لحاظ سے شعبان کے چاند کواچھی طرح گنو ؟ کیوں اللہ کے رسول ﷺ شعبان کی تاریخیں بڑے اہتمام کے ساتھ یاد رکھتے تھے؟ ۔ کیوں کہ اس عظیم مہینے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیائے انسانیت کے لئے زندگی گزارنے کا لائحہ عمل قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے عظیم ترین نعمت اور معجزہ ہے ۔ انسان ی فکر و عمل اور شخصی ارتقاء کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف النوع عبادات مقرر کیں جن میں روزوں کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔ روزہ شخصیت کی تعمیر و تطہیر میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔ یہ بندہ مومن کو منکرات پر کنٹرول کرنے کا اہم ترین زریعہ ہے ۔روزہ سے ایک بندہ خدا اپنی باطنی کمالات کو پروان چڑھا سکتا ہے ، بہیمیت اورخواہشیات کو اچھی طرح سے قابو کرسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ روحانی بلندیوں کو بھی چھو سکتا ہے ۔ ایک بندہ مومن روزوں سے ہر قسم کی نیکیوں اور اخلاقیات کو اپنے اندر جمع کرسکتا ہے ،بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ رمضان ملوکیت کو غالب اور بہیمیت کو مغلوب کرنے کا نام ہے ۔ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں اہل ایمان کو اپنی اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے اور تزکیہ نفس اور روحانی بالیدگی حاصل کر سکتا ہے ۔ اگر اہل ایمان اس مہینہ میں بھی فسق و فجور ، منکرات ،جہالت ، کفر و ضلالت اور آپسی رنجشوں میں مبتلا رہیں تو بقول مولانا مودودیؒ ’’انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لو ‘‘۔ یہ مہینہ ہر سال انقلابی پیغام لے کر آتا ہے تاکہ ہم اس کے عالمگیر پیغام کی طرف کان دہریں ۔ اس مہینہ میں وہ لوگ کامیاب و کامران ہوں گے جو اس کے تمام حقوق اور تقاضوں کو پورا کریں گے اور اپنی آیندہ زندگی میں اللہ تعالی ٰکی بندگی و غلامی اختیار کریں گے ۔ اس برکت والے مہینہ کا استقبال شعبان ہی سے کرنا چائیے کیوں کہ یہ مہمان کوئی عام نوعیت کا مہمان نہیں ہے بلکہ ہر اعتبار سے خاص الخاص ہے ۔ اس مہینہ میں جن باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہیں وہ اس طرح ہیں :
تصحیح تلاوت :
اگر آپ قرآن مجید کو صحیح تلفظ کے ساتھ تلاوت نہیں کرپاتیں تو اس خامی کو دور کرنے کے لئے کسی استاذ سے کسی مکتبہ میں جا کر درست تلاوت سیکھنا شروع کریں ۔ تیس یا چالیس سال کی عمر میں بھی اگر کسی بندے کو صحیح تلاوت کرنی نہیں آتی ہو تو اس کو اس سنجیدگی سے غور کرنا چائیے ۔ تصحیح کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی خوب تلاوت کرنے کا اہتمام کرنا چائیے ۔ماہ قرآن ہے اسی لئے قرآن کے ساتھ اسی نوعیت کا تعلق بھی قائم کرنا چائیے ۔
حفظ قرآن :
اس بات کا بھی اہتمام کریں کہ قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ حفظ کر لیں ۔ اس سلسلے میں سورہ کہف ،سور ہ رحمان ، دورہ لقمان اور سورۃالحجرات کے علاوہ انتیسواں اور تیسواں پارہ بھی کافی مفید رہے گا ۔
فہم قرآن :
ماہ رمـضان کی تمام کی تمام فضیلت قرآن مجید سے وابستہ ہے ۔ اور یہ نزول قرآن کا بھی مہینہ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ماہِ رمضان میں قرآن مجید کا نزول ہوا ہے اور یہ نوع انسانیت کے لئے ہدات کا واحد ذریعہ ہے ۔ اس کے نزول کا اصل مقصد اس کا فہم و تدبر اور اور اس پر عمل کرنا ہے ۔ اللہ تعالی نے یہ کتاب سمجھنے اور اور اس کے احکام و ہدایات پر عمل کرنے کے لئے نازل کیا ،نہ کہ صرف حفظ کرنے اور تراویح میں 4Gرفتار سے تلاوت کے لئے نازل نہیں کیاگیا ہے جس میں مقتدی صرف یعلمون ، تعلمون ہی سمجھ سکتا ہے ۔ قرآن مجید کا تفقہ حاصل کرنا خالی الفاظ دہرانے اور حٖفظ کرنے پرترجیح حاصل ہے، بقول یوسف القرضاوی مجرد حفظ پر تفقہ کو اولیت حاصل ہے ۔
مطالعہ تفاسیر
تفاسیر کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ہر تفسیر کی منفرد خصوصیات و امتیازات ہوتی ہیں جن سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ذخیرہ تفاسیر میںتفسیر طبری، تفسیر کشاف ، تفسیر رازی ، تفسیر ابن کثیر، روح المعانی ،جلالین اور بیضاوی منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ عصر حاضر میں بھی فہم قرآن کو عام کرنے کے لئے چند اہم تفسیریں لکھی گئی ہیں جن میں تفسیر منار ، فی ظلال القرآن، تفہیم القرآن ، بیان القرآن ، معارف القرآن ، تدبر قرآن ، تزکیرالقرآن،معارف القرآن اور تفسیر ماجدی قابل ذکر ہیں ۔ان کے علاوہ ڈاکٹر اسرار احمد کا بیان القرآن ، تقی عثمانی صاحب کا ترجمہ و تفسیر اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا تفسیر قرآن بھی قابل مطالعہ ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک تفسیر کو منتخب کر کے روزانہ مطالعہ کرنا کریں۔
مطالعہ احادیث
احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور اس آج ہر جگہ احادیث پر مشتمل بہت سارے Collectionsدستیاب ہیں ۔ اس مہینے میں احادیث کے کسی ایک مجموعے کو منتخب کر کے بھر پور مطالعہ کر یں اور کم از کم چالیس احادیث کو حفظ کرنے کی بھی کوشش کریں ۔ میری نظر میں صحاحِ ستہ کے علاوہ معارف الحدیث(از :مولانا منظور نعمانی)کلام نبوتؐ (از : مولانا محمد فاروق خان)، راہ ِعمل اور راہِ نجات (از: مولانا جلیل احسن ندوی)،تدبر حدیث(از:مولانالقمان سلفی)، ترجمان الحدیث( از:سید محمود حسن)،تفہیم الاحادیث(از:مولانا مودودی )، انتخاب حدیث (از:مولانا عبد الغفار حسن)،درس ترمذی(از : مولانا تقی عثمانی ) وغیرہ میں سے کوئی ایک مجموعہ زیر مطالعہ رہنا چائیے
فرائض و سنن کا اہتمام :
اس مہینے میں فرائض و سنن اور نوافل کا خاص اہتمام کرنا چائیے ۔ کیوں کہ فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ملے گا اور سنن و نوافل کا بیان فرضوں کے بر ابر ملے گا ۔اس مہینے میں کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چائیے ۔
ہمدردی اور غمخواری :
یہ ہمدردی اور غمخواری کا بھی مہینہ بھی ہے یہ مہینہ ایک بندہ خدا کو معاشرے کے کمزور اور ضرورت مندوں پر مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ماہِ صیام کو ــ’’مواساۃ‘‘کا مہینہ قرار دیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے دلوں سے ضرورت مندوں ، محتاجوںاور غریبوں کے لئے ہمدردی اور غمگساری کا جزبہ پیدا ہوجائے ۔ماہ صیام ہمارے دلوں سے مال و ذر کی محبت نکال کر اللہ اور اس کے بندوں کی محبت پروان چڑھاتا ہے ۔ اس بات کی بھی کوشش کی جائیے کہ کسی غریب ، ضرورت مند اور یتیم کو اپنے افطار میں شریک کر لیں ۔ اس سے اللہ کے بندوں کے ساتھ محبت بڑھ جاتی ہے ۔
انفاق فی سبیل اللہ
ماہ رمضان جود و سخاوت کا مہینہ بھی ہے ۔اس مہینے میں ہر روز ضرورت مندوں تک پہنچنے کی کوشش کی جائیے اور ان کی نہ صرف خیر و خیریت دریافت کی جائے بلکہ آگے بڑھ کر امداد کا سامان بھی مہیا کرایا جائے ۔اس مبارک مہینے میں انفاق فی سبیل اللہ کو اپنی ترجیحات میں رکھنے خاص کوشش کی جائے ۔
قیام لیل:
اس مبارک مہینے میں قیام لیل کا اہتمام بھی کرنا چائیے ۔شب بیداری ایسی عبادت ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہے ۔ اسی مہینہ میں شب قدر بھی ہے جس میںقرآن نازل ہوا ہے ۔ یہ رات رمضان کے آخری عشرے کے طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے ۔ اس شب کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : تحروا لیلۃالقدر فی الوتر من العشر الآوخر من رمضان ‘‘یعنی شب قدر کو تلاش کرو رمضان کے آخری دس دنوں کے طاق راتوں میں ۔(بخاری )ہم امتحان کے دنوں خوب شب بیداری کرتے ہیں لیکن اللہ کی بارہ گاہ شب بیداری کرنے میں الگ ہی لطف ہے ۔ یہ مہینہ بارگاہ ِ خدا وندی میں شب بیداری کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے ۔
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،شعبہ اسلامیات،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
فون نمبر 6397700258