آن لائن تبادلوں، مقررہ مدتِ تعیناتی، میرٹ سسٹم اور پانچ زونز کی تجویز
سرینگر//جموں و کشمیر کے محکمہ اسکولی تعلیم نے تبادلوں کے عمل میں شفافیت، جوابدہی اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ڈرافٹ ٹرانسفر پالیسی 2026 جاری کر دی ہے، جس میں مکمل آن لائن تبادلہ نظام، مقررہ مدتِ تعیناتی، پانچ جغرافیائی زونز اور میرٹ پوائنٹس کی بنیاد پر تبادلوں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔محکمہ اسکولی تعلیم نے مجوزہ پالیسی کو عوامی رائے کیلئے جاری کرتے ہوئے اساتذہ، ملازمین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے 15 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کئے ہیں، جس کے بعد پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔مجوزہ پالیسی کے مطابق اساتذہ، ماسٹرز، لیکچررز، ہیڈ ماسٹرز، پرنسپلز، زونل ایجوکیشن آفیسرز (زیڈای اوئوز)، چیف ایجوکیشن آفیسرز (سی ای اوئوز) اور مساوی عہدوں کے تبادلے ایک مخصوص آن لائن ٹرانسفر پورٹل کے ذریعے کیے جائیں گے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ہر تعلیمی سیشن کے اختتام پر سالانہ تبادلہ کیلنڈر جاری ہوگا اور نئے سیشن کے آغاز سے قبل تمام تبادلوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
پالیسی کی نمایاں خصوصیت ٹرانسفر اسیسمنٹ میٹرکس (TAM) ہے، جس کے تحت ملازمین کو دشوار گزار علاقوں میں خدمات، عمر، بینچ مارک معذوری، سنگین بیماری، سرکاری ملازم شریکِ حیات، تدریسی اعزازات، تعلیمی کارکردگی، بیوہ یا سنگل پیرنٹ ہونے اور ریٹائرمنٹ کے قریب ہونے جیسے عوامل کی بنیاد پر میرٹ پوائنٹس دیے جائیں گے۔ تبادلوں کا فیصلہ انہی پوائنٹس اور خالی آسامیوں کی بنیاد پر ہوگا۔تعلیمی عملے کی متوازن تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اسکولوں کو پانچ جغرافیائی زونز میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں شہری علاقوں سے لے کر انتہائی دور دراز اور دشوار گزار علاقے شامل ہوں گے۔ ملازمین مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد مختلف زونز میں منتقل کیے جائیں گے۔مجوزہ پالیسی کے تحت زون I، II اور III میں تعیناتی کی مدت تین سال، زون IV میں 2سال جبکہ انتہائی دشوار گزار زون V میں ایک سال مقرر کی گئی ہے۔ مشکل علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بعد میں نسبتاً آسان علاقوں میں تعیناتی میں ترجیح دی جائے گی۔پالیسی میں طلبہ و اساتذہ کے تناسب، مضامین کی ضرورت، طلبہ کی تعداد، جغرافیائی رسائی اور ادارہ جاتی ضروریات کی بنیاد پر عملے کی سائنسی انداز میں تقسیم کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اضافی عملے کو ضرورت مند اسکولوں میں منتقل کیا جا سکے گا تاکہ تدریسی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔مجوزہ پالیسی میں سنگین بیماریوں میں مبتلا ملازمین، بینچ مارک معذور افراد، بیواؤں، سنگل والدین، خواتین ملازمین، سرکاری ملازم شریکِ حیات رکھنے والے افراد اور ریٹائرمنٹ کے قریب ملازمین کے لیے خصوصی تحفظات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ 58 سال یا اس سے زائد عمر کے ملازمین کو عام حالات میں دشوار گزار علاقوں میں تعینات نہیں کیا جائے گا، سوائے غیر معمولی انتظامی ضرورت کے۔اس کے علاوہ پالیسی میں جنرل، باہمی (Mutual)، انتظامی، ہمدردانہ(Compassionate)، ترجیحی (Priority) اور خصوصی روٹیشن تبادلوں کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ تبادلوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ادارہ، ضلع اور مرکزی سطح پر مشتمل تین سطحی شکایتی نظام قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔محکمہ اسکولی تعلیم نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ پالیسی پر اپنی آراء اور تجاویز مقررہ مدت کے اندر پیش کریں تاکہ حتمی منظوری کے بعد اسے پورے جموں و کشمیر میں نافذ کیا جا سکے