لکھنو// اتر پردیش میں ایک پْر اسرار بخار نے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ ڈینگی جیسے اس بخار کی زد میں آنے سے فیروز آباد میں 33 بچوں اور 7 بالغوں کی موت ہو چکی ہے۔فیروز آباد کے ایک ہی اسپتال میں اس پر اسرار بخار کے سبب کم از کم 30 بچوں کی جان چلی گئی ہے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متاثرہ کنبوں سے ملاقات کر کے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے 100 بستروں والے اس اسپتال کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ متھرا، فیروز آباد اور مین پوری سمیت مغربی یوپی کے کچھ اضلاع میں وائرل فیور کے معاملوں میں تیزی نظر آ رہی ہے، اس وجہ سے حکومت نے خطرے کے تئیں آگاہ کیا ہے۔ فیروز آباد سے بی جے پی کے رکن اسمبلی منیش اسیجا نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتہ اس بیماری کی وجہ سے 40 بچوں کی جان گئی ہے۔ تاہم، بی جے پی حکومت کے وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ نے اپنے ہی رکن اسمبلی کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اسیجا کے دعووں کو غلط قرار دیا اور کہا کہ انہیں ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔فیروز آباد کے ضلع مجسٹریٹ چندر وجے سنگھ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ کورونا وبا کی تیسری لہر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بھاری بارشوں اور پانی کے بھراو کے سبب مچھروں کے پنپنے سے لوگوں میں بخار کی علامات ظاہر ہو رہی ہے۔ بچوں میں تیز بخار کا سبب ڈینگی اور ملیریا ہے۔ طبی ٹیموں نے مریضوں کا کورونا ٹیسٹ کیا ہے لیکن اس میں سبھی نگیٹو پائے گئے ہیں۔‘‘