جموں//منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان رینجرز کی طرف سے ضلع سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر کی گئی بلا اشتعال فائرنگ میں ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت 4بی ایس ایف اہلکار ہلاک جب کہ تین دیگر شدید زخمی ہو گئے ۔ بی ایس ایف ترجمان نے بتایا کہ ’گزشتہ شب رام گڑھ سیکٹر میں رات 9:40پر پاکستانی رینجرز نے اسرف پوسٹ سے چملیال اور نارائن چوکیوں کو نشانہ بنا کر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی، مابعد رینجرز نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کر 62ویں بٹالین بی ایس ایف کے اہلکاروں کو شدید طور پر زخمی کر دیا جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن صبح 2:30بجے کے قریب چار اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ، فائرنگ کا سلسلہ صبح 4:30بجے تک جاری رہا۔ مہلوک اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ جتیندر سنگھ ، سب انسپکٹر رجنیش ، اے ایس آئی رام نواس اور کانسٹبل ہنسراج کے طور پر کی گئی ہے ۔ زخمی اہلکاروں میں سب انسپکٹر زینٹل سل کانسٹبل سجان داس اور کانسٹبل وکاس کمار شامل ہیں۔ زخمیوں کو ستواری کے فوجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری اوپریشنز نے 29مئی کو 2003کے جنگنبدی معاہدہ کی پاسداری پر اتفاق ظاہر کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا اور 3جون کوکاہنہ چک،کھوڑ سیکٹر میں پاکستان رینجرز کی فائرنگ میں ایک بی ایس ایف اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت2اہلکار ہلاک جب کہ 10افراد جن میں بیشتر شہری تھے زخمی ہو گئے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر رواں برس سرحدی شلنگ کی وجہ سے 50 لوگ مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ مہلوکین میں 24 سیکورٹی فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک پاکستان نے 1200 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 ء کے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم ج
وزیر اعلیٰ رنجیدہ
نیوز ڈیسک
سرینگر//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سانبہ ضلع کے رام گڈھ سیکٹر میں سرحد پار کی فائرنگ سے ایک افسر سمیت بی ایس ایف کے 4 جوانوں کی ہلاکت پر افسوس کا اِظہار کیا ہے۔جاں بحق ہوئے جوانوں کو خراج پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سرحدوں پر تنائو کم کرنے پر زور دیاہے تاکہ اِن علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے مال و جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ ریاست کے کئی علاقوں میں سیکورٹی آپریشنوں کو اِلتوأ میں ڈالنے سے لوگوں کو کافی راحت ملی ہے ۔ اُنہوںنے اُمید ظاہر کی کہ اس عمل کو سرحدی علاقوں تک وسعت دی جائے گی تاکہ ان علاقوں میں امن کا ماحول قائم ہو، جس طرح 2003ء میں دونوں اطراف میں امن تھا۔ وزیر اعلیٰ نے مارے گئے جوانوں کے سوگوار کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اِظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں بھارتی سفیر طلب
نیوز ڈیسک
اسلام آباد// پاکستان نے سرحدی گولہ باری کے دوران ایک شہری کی ہلاکت پر احتجاج درج کرتے ہوئے اسلام آاباد میں مقیم بھارت کے کارگذار ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا ۔پاکستان کے کارغذار ڈائریکٹر جنرل (سائوتھ ایشیاء و سارک) نے بھارتی کمشنر کو طلب کیا اور بھارتی افواج کی جانب سے سرحد پر فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کی مذمت کی اور اپنا احتجاج درج کیا ۔پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے جس کے نتیجے میں انکی طرف شہری و فوجی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔
نگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے۔مشمولات یو این آئی