یو این آئی
کوٹا// سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہم کےمرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے منصوبے میں تقریباً 1.10 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے 75 سے 80 فیصد کام پورا ہو چکا ہے اور بقیہ کام بھی تیزی سے ترقی پر ہے۔ گڈکری بدھ کی دیر شام کوٹا کے گوپال پورہ منڈانا میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اگلے دو برسوں میں دہلی سے ممبئی کے نریمن پوائنٹ اور جواہر لال نہرو پورٹ تک تقریباً 12 گھنٹے میں سڑک کے راستے سفر ممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے صرف آمد و رفت کا ذریعہ نہیں، بلکہ خطے کی ہمہ جہت ترقی کی شاہراہ ہے۔ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے جن علاقوں سے گزر رہا ہے، ان علاقوں میں اس سے روزگار، صنعت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ این ایچ-52 سے مکندرا وائلڈ لائف سینچری کو بائی پاس کرتے ہوئے 8 لین دہلی ممبئی ایکسپریس وے سے جوڑنے کے لیے لنک روڈ بنایا جائے گا، جس کی لاگت تقریباً 550 کروڑ روپے ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کوٹا کو براستہ بالپورہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سے جوڑنے کے لیے بھی 21 کلومیٹر طویل چار لین گرین فیلڈ رابطہ سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا کام آئندہ تین ماہ کے اندر شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھوانی منڈی کو دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سے جوڑنے کے لیے بھی ڈی پی آر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بننے کے بعد بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان جدید ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے ذریعے عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً 80 لاکھ ٹن کچرا سڑک کی تعمیر میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بائیو بٹومین جیسی نئی تکنیکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔