نئی دہلی/ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بہار کے شہر پٹنہ میں پارٹی کے ریاستی دفتر میں کی گئی توڑ پھوڑ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا راستہ سچ، عدم تشدد اور آئین کو بچانے کا ہے اور ان سب مخالف حالات کے باوجود وہ آئین کی حفاظت کے اپنے سفر کو جاری رکھیں گے۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا،’’سچ اور عدم تشدد کے آگے جھوٹ اور تشدد ٹک ہی نہیں سکتے۔ مارو اور توڑو، جتنا مارنا اور توڑنا ہے – ہم سچ اور آئین کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ ستیہ میو جیتے۔‘‘
اسی دوران کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری سی وینو گوپال نے کہا،’’ووٹر ادھیکار یاترا کی بڑھتی مقبولیت اور ہمارے تئیں عوام کی محبت سے گھبرا کر بی جے پی نے ایک بار پھر ہمیں ڈرانے دھمکانے کے لیے اپنے غنڈوں کو چھوڑ دیا ہے۔ بہار کے پٹنہ کے صدا قت آشرم واقع ہمارے پردیش کانگریس دفتر پر ریاستی حکومت کے ایک کابینی وزیر اور دیگر بی جے پی لیڈروں کی قیادت میں کیا گیا حملہ بزدلانہ فعل ہے۔ ایسے اقدامات ہمیں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے نام پر جاری بڑے پیمانے کی ووٹ چوری کو بے نقاب کرنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے زوال اور بہار کے عوام کے بڑھتے غصے کا احساس ہو گیا ہے اور اس کی مایوسی اپنی حدیں پار کر رہی ہے۔ کسی پارٹی دفتر پر حملہ ہونا سیاسی غنڈہ گردی کی بدترین شکل ہے اور اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت میں اس طرح کے تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور بی جے پی کی یہ بربریت اس کے اصلی ارادوں اور کردار کو بے نقاب کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’جمہوریت پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کو اس کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے اور ہم ہر شہری سے اپیل کرتے ہیں کہ اس غنڈہ گردی کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کریں۔‘‘
بہار پولیس کو اس جرم کے قصورواروں کے خلاف سخت اور مثال قائم کرنے والی کارروائی کرنی چاہیے اور اس غنڈہ گردی کی قیادت کرنے والے وزراء اور لیڈروں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔
آئین کی حفاظت کا اپنا سفر ہم جاری رکھیں گے : راہل گاندھی
