سری نگر/ وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑںے والی سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر اتوارکو مسلسل چھٹے روز بھی ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ بحالی کا کام مکمل ہونے تک قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے اجتناب کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ پر حسب ایڈوازئری ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے۔ٹریفک حکام نے اتوار کی صبح بتایا کہ قومی شرہراہ ہنوز بند ہے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ بحالی کا کام مکمل ہونے تک قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے اجتناب کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ان کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ پر حسب ایڈوازئری ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے۔حکام نے لوگوں سے لین ڈسپلن پر عمل کرنے اور اوور ٹیکنگ سے احتراز کرنے کی اپیل کی ہے اہلیان وادی کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ بند ہونے کے ساتھ وادی میں گراں بازاری آسمان چھونے لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خورد و نوش کی اچانک قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور مرغ کی ریٹ اس قدر بڑھ گئی ہے عام لوگوں کے لئے ان کا خریدنا از بس مشکل بن گیا ہے۔