راجوری// راجوری کے بڈھال گاؤں میں ایک چشمہ کے پانی میں زہریلی دوائیوں کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اسے فوری طور پر بند کر دیا ہے اور پانی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
انتظامیہ نے پولیس کو چشمے پر سیکیورٹی تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ پانی کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، کوٹرنکہ کی طرف سے اس سلسلے میں جاری ایک حکم نامہ کے مطابق، “جہاں تک گاؤں بڈھال کے چشمہ (باؤلی) کے پانی کے نمونوں کی جانچ کی گئی ہے اور وہ کچھ کیڑے مار اور جراثیم کش دوائیوں کے لیے مثبت پائے گئے ہیں۔ اس باؤلی کو پی ایچ ای (جل شکتی) ڈویژن راجوری نے بلاک کر دیا ہے اور متعلقہ مجسٹریٹ نے سیل کر دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ گاؤں کی قبائلی آبادی اس باؤلی کا پانی چھپ کر حاصل کر سکتی ہے”۔
حکم نامہ کے مطابق، “لہٰذا تحصیلدار خواص کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی گاؤں والا اس باؤلی کے پانی کا استعمال نہ کرے۔ پولیس سٹیشن کاندی کے ایس ایچ او کو ہدایت دی جاتی ہے کہ 2 سے 3 سیکورٹی اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے اس باؤلی پر تعینات کریں تاکہ اس باؤلی کے پانی کا استعمال مکمل طور پر روکا جا سکے”۔
حکام کے مطابق، پراسرار بیماری سے حالیہ ہفتوں میں گاؤں کے 17 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف وزارتوں کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جو اموات کی وجوہات کا جائزہ لے گی۔
راجوری: بڈھال گاؤں میں چشمہ کا پانی زہریلا قرار، فوری بند کرنے کا حکم، پولیس تعینات
