جموں/ بارڈر روڈز آرگنائزیشن نے جمعے کے روز پیر پنجال خطے میں بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ملبہ گرنے کے بعد متاثرہ سڑکوں کو صاف کرنے کا کام شروع کیا۔ سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کے سبب راجوری سمیت کئی علاقوں میں رابطہ ٹوٹ گیا تھا، جس سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر کے متعدد اضلاع کے لیے وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسم آئندہ دو روز مزید خراب رہنے کا امکان ہے۔پونچھ، ریاسی، راجوری، کشتواڑ اور اودھمپور میں ییلو الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں طوفانی بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ ہفتہ اور اتوار کے لیے پونچھ، کشتواڑ، جموں، رام بن اور اودھمپور میں اورنج الرٹ جاری ہوا ہے جس کا مطلب زیادہ شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔
ادھر پچھلے دو دنوں کی موسلا دھار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے خطے کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت جموں ڈویژن کے تمام سرکاری و نجی اسکول 30 اگست تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام نے تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ جہاں ممکن ہو، طلباء خصوصاً نویں سے بارہویں جماعت تک کے لیے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
اس دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر گزشتہ دو روز کی شدید بارشوں کے باوجود ایک بڑے سانحے سے بال بال بچ گیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف پہنچ سکے۔
راجوری میں بارشوں کے بعد شاہراہوں کی بحالی کا کام شروع
