ریاسی حملہ: ملی ٹینٹ مخالف آپریشن دوسرے روز بھی جاری، 20 افراد سے پوچھ تاچھ

عظمیٰ ویب ڈیسک

ریاسی// ضلع ریاسی میں یاتریوں کی بس پر حملے میں ملوث ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانے کیلئے آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کی 11 ٹیمیں علاقے میں کام کر رہی ہیں اور پونی تریاٹھ علاقے کے ارد گرد ایک کثیر جہتی گھیرا بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جموں اور راجوری اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور ملی ٹینٹ حملے کے بعد علاقے میں چیکنگ اور تلاشی کو تیز کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق 20 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
اتوار کو ملی ٹینٹوں نے 53 سیٹوں والی بس پر اس وقت حملہ کیا جو یاتریوں کو لے کر جا رہی تھی جب وہ شیو کھوڑی مندر سے پونی علاقے کے تریاٹھ گاوں کے قریب کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی کے شرائن کی طرف جا رہی تھی۔
بس، جو اتر پردیش، راجستھان اور دہلی سے زائرین کو لے کر جارہی تھی، فائرنگ کے بعد گہری کھائی میں گر گئی۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، ادھم پور-ریاسی رینج، رئیس محمد بھٹ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کو کچھ رہنمائی ملی ہے کیونکہ پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی 11 ٹیمیں بھاگنے والے ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کے لیے مشترکہ طور پر دو مختلف محوروں پر کام کر رہی ہیں۔
ایک اور سینئر پولیس افسر نے کہا، “آج اس علاقے میں اور اس کے آس پاس (جہاں حملہ ہوا تھا) تلاشی کی کارروائی جاری ہے جس میں 11 ٹیمیں علاقے کام کر رہی ہیں، اس کے علاوہ (پونی تریاٹھ) کے ارد گرد ایک کثیر جہتی گھیرے میں ہیں”۔
حکام نے کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کے بیانات کی بنیاد پر، انہوں نے موقع پر کسی چوتھے شخص کے موجود ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو شبہ ہے کہ پاکستانی ملی ٹینٹ راجوری اور ریاسی کے پہاڑی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے علاقے میں کومبنگ آپریشن تیز کر دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ محفوظ مواصلات کے ذریعے پاکستان کی آئی ایس آئی سے ہدایات لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ایک مقامی اوور گراونڈ ورکر سمیت چار ملی ٹینٹ اس حملے میں ملوث تھے جو لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو حمزہ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔
ڈرونز اور کھوجی کتوں سمیت نگرانی کے آلات سے لیس، سیکورٹی اہلکاروں نے پیر کو بڑے پیمانے پر کومبنگ آپریشن شروع کیا۔ علاقے میں نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر کو بھی استعمال کیا گیا۔
حملے میں زخمی ہونے والے 41 افراد میں سے 10 کو گولیاں لگیں۔ بس ڈرائیور وجے شرما کئی گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بس پر مختلف مقامات پر گولیوں کے 11 نشانات پائے گئے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) اور فارنسک محکمہ کی ٹیموں نے حملہ کی جگہ کا دورہ کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا۔