عظمیٰ ویب ڈیسک
میرٹھ// اتر پردیش پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ (اے ٹی ایس) نے ماسکو میں قائم بھارتی سفارتخانے میں کام کرنے والے ایک شخص کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر ملک دشمن سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے اور اُسے اہم خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
اتوار کو یہاں جاری ایک سرکاری بیان میں اے ٹی ایس نے کہا کہ مبینہ جاسوس وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور بھارتی فوجی اداروں کی سٹریٹجک سرگرمیوں کے بارے میں معلومات آئی ایس آئی تک پہنچا رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہاپوڑ ضلع کے تھانہ شاہمحی الدین پور گاو¿ں کے رہنے والے جیویر سنگھ کے بیٹے ستیندر سیوال کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے۔
سیوال وزارت خارجہ میں کام کر رہا ہے اور اس وقت ماسکو، روس میں بھارتی سفارت خانے میں تعینات ہے۔
اے ٹی ایس کو مختلف خفیہ ذرائع سے انٹیلی جنس موصول ہو رہی تھی کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ہینڈلرز کچھ افراد کے ذریعے وزارت خارجہ کے ملازمین کو پیسے کا لالچ دے رہے ہیں تاکہ بھارتی فوج سے متعلق تزویراتی طور پر اہم معلومات حاصل کی جا سکیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بھارت کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔
اے ٹی ایس نے الیکٹرانک اور جسمانی نگرانی کے ذریعہ اپنی تحقیقات میں پایا کہ سیوال آئی ایس آئی ہینڈلرز کے نیٹ ورک کے ساتھ بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھا اور وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور بھارت کی سٹریٹجک سرگرمیوں سے متعلق اہم خفیہ معلومات فراہم کرتا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ فوجی اداروں کو پیسے کے عوض انہیں دستیاب کرایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سیوال کو اے ٹی ایس فیلڈ یونٹ میرٹھ میں بلایا گیا اور قواعد کے مطابق پوچھ تاچھ کی گئی۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکا اور تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
سیوال کے خلاف، جو ماسکو، روس میں بھارتی سفارت خانے میں 2021 سے آئی بی ایس اے (انڈیا بیسڈ سیکیورٹی اسسٹنٹ) کے طور پر کام کر رہے ہیں، کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 121 اے اور اور سرکاری راز ایکٹ 1923کے تحت لکھنو کے اے ٹی ایس پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔