جموں/ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ (ایس ایم وی ڈی ایس بی) نے موسم کی ایڈوائزری کو نظر انداز کرکے یاترا کو جاری رکھنے کی اجازت دینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاترا کو 26 اگست کو دوپہر کو بادل پھٹنے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی، سے پہلے ہی معطل کر دیا گیا تھا۔
بورڈ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘گذشتہ روز سے کچھ میڈیا رپورٹس گردش کر رہی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ یاترا کو موسمی ایڈوائزری کو نظر انداز کرتے ہوئے اور یاتریوں کی حفاظت کی قیمت پر آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی’۔
انہوں نے کہا: ‘بورڈ 26 اگست کو قدرتی آفت میں یاتریوں کی جانوں کے افسوس ناک نقصان پر گہرے دکھ اور درد کا اظہار کرتا ہے اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے پیدا ہونے والے تاثر کو زائل کرنے کے لیے درست حقائق پر مبنی پوزیشن کو ریکارڈ پر رکھتا ہے’۔
بیان میں کہا گیا کہ بورڈ واضح الفاظ میں ان تمام الزامات جن میں کہا گیا کہ موسمی ایڈوائزری کو نظر انداز کیا گیا، کو غلط اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘موسم کی صورتحال 26 اگست کی صبح تقریباً 10 بجے تک یاترا کے لیے صاف اور سازگار رہی، اس دوران یاترا معمول کے مطابق آگے بڑھی، یہاں تک کہ ہیلی کاپٹر خدمات بھی بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی تھیں’۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ نے اپنے قائم کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے مطابق اپنے انفورسمنٹ عملے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹاسک فورس کو پورے ٹریک پر تعینات کرکے وسیع انتظامات کیے تھے اور موسم کی تازہ صورتحال پر گہری نظر رکھی گئی تھی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘محکمہ موسمیات کی طرف سے جیسے ہی ہلکی بارش کی پیش گوئی کی گئی تو رجسٹریشن کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا، یاتریوں کی اکثریت مقدس غار پر درشن مکمل کرنے کے بعد پٹری سے نیچے جا رہی تھے۔ اس وقت تک راستے میں ہزاروں یاتری آسانی سے کٹرہ واپس اپنی یاترا مکمل کر چکے تھے’۔
بیان میں کہا گیا کہ بہت سے یاتری پرانے ٹریک پر مقررہ ہالٹ پوائنٹس پر راستے میں شیلٹر شیڈز میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا: ‘ یہ وہ پوائنٹس اور اسٹریچ ہیں جو ماضی میں کبھی لینڈ سلائیڈنگ کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ یہ ہالٹ پوائنٹس خاص طور پر یاتریوں کی حفاظت کے لیے ٹریک کے محفوظ ترین زون میں بنائے گئے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘کٹرا اور ادھکواری کے درمیان نیا ٹریک (براستہ تارا کوٹ)، جو لینڈ سلائیڈنگ اور موسم سے متعلق رکاوٹوں کا شکار ہوسکتا ہے، یاتریوں کی حفاظت کے مفاد میں 24 اگست سے پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا’۔
بیان میں کہا گیا: ‘ گذشتہ کئی دہائیوں سے مستحکم ہونے کے بعد، پرانا ٹریک، جو عام طور پر محفوظ ہے اور لینڈ سلائیڈنگ یا پتھر کھسک آنے کا شکار نہیں رہتا ہے، موسمی حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے اسے یاتریوں کی نقل و حرکت کے لیے کھلا رکھا گیا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہہاں تک کہ اس ٹریک پر یاترا کو موسم کی مخصوص ایڈوائزری جاری کرنے پر 26 اگست کو دوپہر 12 بجے تک روک دیا گیا تھا’۔
ان کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ بد قسمت حادثہ پیش آیا وہ پرانے ٹریک پر اندر پرستھ بھوجنالیہ کے قریب واقع ہے۔
بورڈ نے بیان میں کہا کہ یہ ٹریک محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ تاہم، صرف 50 میٹر کے اس حصے میں اچانک شدید بادلوں کے پھٹنے کی صورت میں قدرت کا قہر ٹوٹا، جس سے دوپہر 2.40 بجے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوئی’۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی بھی صورت سے غیر متوقع تھا اور ماضی میں اس علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کا ایسا کوئی واقعہ ریکارڈ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ شرائن بورڈ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹاسک فورس، جو ٹریک کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی، نے فوری طور پر ضلع انتظامیہ ریاسی، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف، فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور رضاکاروں کے ساتھ قریبی تال میل کرکے تیزی سے انخلاء اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
بیان میں کہا گیا: ’18 یاتری جو زخمی ہوئے تھے، کو بحفاظت باہر نکالا گیا اور ٹریک کے ساتھ ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ککریال میں شرائن بورڈ کے اسپتال میں سپر اسپیشلٹی کیئر کے لیے منتقل کیا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ درماندہ یاتریوں کو 26 اگست کی شام تک تارا کوٹ مرگ کے راستے کٹرہ تک بحفاظت نکال لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ملبہ صاف کرنے، ڈھلوان کی جانچ اور استحکام کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا گیا۔
بورڈ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ موسم کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر معقول احتیاط برتی گئی۔
انہوں نے کہا: ‘بدقسمتی سے بادل پھٹنے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا اور اس طرح کسی کی بھی توقع یا قابو سے باہر تھا’۔
بورڈ نے کہا کہ اس نے ہر وقت موسم کی سرکاری پیش گوئیوں اور ایڈوائزری کے مطابق سختی سے کام کیا ہے، جس میں یاتریوں کی حفاظت اور بہبود اس کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا: ‘شرائن بورڈ غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور جاں بحق ہونے والے عقیدت مندوں کے اہلخانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور شرائن بورڈ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ماتا ویشنو دیوی سے دعا کرتا ہے’
شری ماتا ویشنو دیوی ٹریک پر بادل پھٹنے سے پہلے ہی یاترا روک دی گئی تھی: شرائن بورڈ
