سری نگر/ وادی کشمیر کے معروف بازاروں سے لے کر گمنام گلی کوچوں میں لوگوں کی چہل پہل کا باعث بننے والے صدیوں پرانے فوڈ کلچر کی رونق اچانک ماند پڑ گئی ہے۔
چند روز قبل سامنے آئے گلے سڑے گوشت کے اسکینڈل نے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو چکنا چور کیا بلکہ اس نے شام ڈھلے جم جانے والے فوڈ اسٹریٹ کلچر کو بھی بے جان کر ڈالا۔
سری نگر سے کپواڑہ اور قاضی گنڈ تک، جہاں کبھی رس دار رستے اور تُجی کی خوشبو شام کی فضا کو مہکاتی تھی، آج وہاں سر شام ہی سناتا چھا جاتا ہے۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے مشہور فوڈ سٹریٹ مارکیٹ میں کھانے کے میز خالی پڑے ہیں۔ مین چوک میں بھی خالی کرسیاں گاہکوں کے انتظار میں ان کی راہیں تکتی ہیں۔
فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی کے بعد جب ہزاروں کلو مضر صحت گوشت ضبط ہوا، تو صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنے لگے کہ آخر بازار میں کس پر اعتماد کیا جائے۔
سری نگر کے ایک نوجوان صارف، فیاض احمد کا کہنا ہے:’اب ہمیں یقین نہیں کہ کون سا دکان دار محفوظ گوشت دے رہا ہے۔ جب تک حکومت عملی طور پر سخت چیکنگ اور شفاف نظام نہ دکھائے، ہم باہر کا گوشت کھانے سے پرہیز کریں گے’۔
وینڈرز کے لیے یہ صورتحال روزگار کا بحران بن گئی ہے۔ ایک نوجوان وینڈر کا کہنا ہے: ‘یا تو ہمیں کاروبار بند کرنا ہوگا یا دوسرا ذریعہ معاش تلاش کرنا ہوگا۔ اسٹریٹ فوڈ ہماری روزی ہے، لیکن لوگ اگر ہمیشہ کے لیے منہ موڑ لیں تو ہم کہاں جائیں گے’۔
فوڈ سیفٹی محکمہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ غیر معیاری گوشت اور مرغی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت لارروائیاں جاری رہیں گی اور ایف ایس ایس اے آئی قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
وینڈرز کو اب یہی امید ہے کہ سخت جانچ پڑتال اور حکومتی اعتماد سازی کے بعد ایک بار پھر گلی کوچوں میں کشمیری کھانوں کی رونق لوٹ آئے گی۔
گلے سڑے گوشت کی برآمدگی سے کشمیری فوڈ مارکیٹ سنسان
