جموں/ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ جموں و کشمیر کا دورہ صرف اور صرف حالیہ طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کر رہے ہیں۔امیت شاہ آج شام جموں پہنچیں گے اور دو روزہ دورے کے دوران متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے کرنے کے ساتھ ساتھ پیر کو راج بھون میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔بتایا گیا ہے کہ 14 اگست سے کشتواڑ، کٹھوعہ، ریاسی اور رامبن اضلاع میں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈز اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں 130 سے زائد افراد جاں بحق، 120 سے زیادہ زخمی جبکہ 33 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔26 اور 27 اگست کی ریکارڈ بارشوں نے نشیبی علاقوں میں بھی تباہی مچائی اور سرکاری و نجی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا۔عمر عبداللہ نے اودھم پور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:”وزیر داخلہ کا مقصد صرف اور صرف بارشوں اور سیلاب کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینا اور ریاست کی ضروریات کو مرکز کے سامنے رکھنا ہے۔ ان کے دورے کا سکیورٹی یا ترقیاتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”وزیراعلیٰ نے جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ وہ راج بھون میں وزیر داخلہ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔