شبیر وانی
سری نگر /سری نگر جموں قومی شاہراہ کی مسلسل بندش کے نتیجے میں وادیٔ کشمیر میں ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ فوڈ، (سول سپلائز اینڈ کنزیومر افیئرز (کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ کے حکام اور وزیر موصوف محض بیانات تک محدود ہیں اور عملی طور پر قیمتوں پر قابو پانے کی کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ عوامی نکتہ نظر کے مطابق، دکاندار اور ہول سیل سپلائرز شاہراہ کی بندش کو بہانہ بناکر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، جبکہ محکمہ کے اہلکار ’اے سی کمروں میں بیٹھ کر سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔‘
شہر سری نگر کے مختلف علاقوں کے صارفین نے بتایا کہ مرغ گوشت جو شاہراہ بندش سے قبل فی کلو 125 روپے فروخت ہورہا تھا، اب 170 سے 180 روپے تک بیچا جارہا ہے۔ عوام نے الزام لگایا کہ یہ قیمتوں کا قدرتی ردوبدل نہیں بلکہ کھلا منافع خوری ہے، جس کی روک تھام کے لئے محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز نے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔
ایک مقامی شہری بلال احمد نے کہا:’یہ سراسر لوٹ ہے، اور انتظامیہ کا کوئی عمل دخل نظر نہیں آ رہا۔ ہر بار سڑک بند ہونے کو دکاندار اور سپلائر بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ من مانے دام وصول کئے جائیں۔ آخر کہاں ہے ریٹ انفورسمنٹ؟ کیا محکمہ سو رہا ہے؟‘
عوامی حلقوں نے فوڈ اینڈ سپلائز کے وزیر کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگوں نے کہا کہ وزیر موصوف میڈیا کے سامنے سب کچھ معمول کے مطابق ہونے کا دعویٰ کرنے کے بجائے بازاروں میں خود معائنہ کریں تاکہ حقیقت آشکار ہو سکے کہ کس طرح عام لوگ لوٹ کھسوٹ کا شکار بن رہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں سبزیوں کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ صارفین کے مطابق، ٹماٹر، پیاز، آلو اور ہری سبزیوں کے نرخ مقررہ ریٹ لسٹ سے کہیں زیادہ وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ فوڈ اینڈ سپلائز محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
ایک مقامی شہری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بازاروں کا دورہ کریں، تب ہی حقیقت آشکار ہو گی کہ کس طرح عام آدمی کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔‘
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے سنجیدہ ہے تو منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک اعلیٰ حکام زمینی سطح پر خود صورتحال کا جائزہ نہیں لیتے، تب تک عام صارفین کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔
ادھر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں شاہراہ بند ہوتے ہی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ایک معمول بن چکا ہے اور اس استحصالی رویے پر قابو پانے کے لئے محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز کو ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔