عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے ایک اہم پیغام میں کہا ہے کہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار بخوبی نبھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر قدرتی حسن اور ماحولیاتی شفافیت کے لیے دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، جس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران وادی میں درختوں کی بے تحاشہ کٹائی اور ندی نالوں، چشموں اور جھیلوں میں بڑھتی آلودگی نے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ڈاکٹر فاروق نے زور دے کر کہا کہ ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک منظم اور مؤثر عوامی مہم کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا، ہمیں شیخ العالم (رح) کے ان ارشادات پر عمل کرنا چاہیے، جن میں فطرت سے ہم آہنگ زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑے پیمانے پر شجر کاری میں حصہ لیں اور دوسروں کو بھی اس مہم کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں جن کے ذریعے یہ سکھایا جائے کہ ہم ماحول کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ستھرا ماحول کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دیا کہ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ نہ صرف درخت لگائے بلکہ ان کی نگہداشت کو بھی یقینی بنائے، پالی تھین کے بجائے کپڑے یا جُوٹ کے تھیلے استعمال کرے، اور کوڑے کرکٹ سے پالی تھین علیحدہ کر کے نامیاتی کھاد تیار کرے۔ انہوں نے گاڑیوں کو آلودگی سے پاک رکھنے اور وقتاً فوقتاً پولوشن چیک کروانے پر بھی زور دیا۔اپنے بیان میں انہوں نے حکومت و انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور ریاست میں قدرتی وسائل کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔