جموں میں وسیع پیمانے پر اور وادی میں بیشتر مقامات بھاری بارشوں کا امکان
بلال فرقانی
سرینگر// جموں اور کشمیر ڈویژنوں میں موسم میں بہتری آنے کے بعد دریائے جہلم اور توی کے علاوہ خطہ چناب، پیر پنچال اور وادی کے دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہوتی گئی کیونکہ ہفتے کی شب سیلاب کی صورتحال دوباہ پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔محکمہ فلڈ کنٹرول نے کہا ہے کہ دریائے جہلم اور توی میں پانی کی سطح کم ہورہی ہے اور سیلاب کاخطرہ فوری طور ٹل گیا ہے۔لیکن ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی)نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں جاری گیلے موسم کی صورتحال تقریباً اس ہفتے بھی جاری رہے گی۔
مرکزی محکمہ موسمیات نے 28 جولائی سے جموں ڈویژن میں بڑے پیمانے پر بارش اور الگ تھلگ جگہوںپر بھاری بارش کی وارننگ کی پیش گوئی کی ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کا خطرے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کشمیر ویدر کے مطابق اگرچہ طویل بارش کی توقع نہیں ہے، لیکن الگ تھلگ مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، جس سے سیلاب کا بہت زیادہ خطرہ رہتا ہے۔
ادھرموسمیاتی مرکز سرینگر کے مطابق، اگلے 24 گھنٹوں کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بکھری ہوئے مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے، اس کے بعد آنے والے دو دنوں کے دوران کافی وسیع پیمانے پر بارش ہوگی۔7 دن کی پیشن گوئی کے مطابق 28 جولائی سے 1 اگست تک بارشی موسم کافی وسیع ہو جائے گا، جب کہ جموں ڈویژن میں اس مدت کے دوران زیادہ تر دنوں میں بڑے پیمانے پر بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے اتوار اور پیر کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی ہے۔ تاہم، 28 جولائی کے بعد سے، کشمیر ڈویژن میں 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائوں کے ساتھ الگ تھلگ مقامات پر طوفانی بارشوں کا امکان ظاہر کیاہے۔ جموں ڈویژن کے لیے، آئی ایم ڈی نے 28 جولائی سے یکم اگست کے درمیان 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں، بجلی گرنے اور تیز ہوائوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ حالات لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے، پتھرگرنے، طوفانی سیلاب اور پانی جمع ہو نے کا سبب بن سکتے ہیں۔
محکمہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں موسمی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہونے کی توقع ہے، جس سے زیادہ تر اضلاع میں کافی وسیع بارشیں ہوں گی۔محکمہ نے رہائشیوں اور مسافروں کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ شدید بارش سے لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے اورپتھر گرنے، سیلاب اور کمزور علاقوں میں خاص طور پر پہاڑی سڑکوں اور نشیبی مقامات پر پانی جمع ہو سکتا ہے۔حکام نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمی ہدایات پر عمل کریں، شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں احتیاط برتیں۔