مسابقتی امتحانات کی ساکھ سب کی مشترکہ ذمہ داری
یو این آئی
نئی دہلی//وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے واقعات کو قومی تشویش کا موضوع بتاتے ہوئے منگل کو کہا کہ حال ہی میں نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں سامنے آئے پیپر لیک کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ مودی نے امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے واقعات کو قومی تشویش کا موضوع بتایا اور کہا کہ مسابقتی امتحانات کی پاکیزگی اور ساکھ کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے فوری اور ہم آہنگ کوششیں ضروری ہیں۔ مسٹر مودی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران آج صبح برسرِ اقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ ‘منگل ملن پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیرِ اعظم نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب پیپر لیک کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے مانسون سیشن میں پہلے دو دن کوئی کام کاج نہیں ہو سکا۔ اس معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے حق میں پیر کو راجدھانی میں ایک شدید احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس دوران جھڑپوں میں کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔این ڈی اے اراکینِ پارلیمنٹ کی میٹنگ میں وزیرِ اعظم کے خطاب کی معلومات صحافیوں کو پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے دی۔ مسٹر ریجیجو کے مطابق وزیرِ اعظم نے میٹنگ میں اس بات کا ذکر کیا کہ پیپر لیک سامنے آنے کے فوراً بعد سرکار نے تیزی سے قدم اٹھائے، تیرہ لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے جلد ہی دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا۔ مسٹر ریجیجو نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے خاطیوں کو سخت ترین سزا دینے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کوروکنا ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے مستقبل میں ایسے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور خامیوں سے پاک امتحانی نظام تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکار کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد طلبہ کے خوابوں کی حفاظت کرنا، امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانا اور قومی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کی پاکیزگی اور ساکھ یقینی بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پیپر لیک کے خلاف ریاستی حکومتوں اور تمام پارٹیوں کو مل کر لڑنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم مودی نے این ڈی اے اراکینِ پارلیمنٹ سے نوجوانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں یہ بھروسہ دلانے کوکہا کہ سرکار ملک کے نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر طلبہ کے درمیان گمراہی پھیلانے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اتحاد کے اتحادیوں سے ایسی مبینہ گمراہ کن معلومات کا مضبوطی سے مقابلہ کرنے کی بات کہی ۔پارلیمنٹ کی کارروائی بلارکاوٹ جاری رہنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے این ڈی اے کے اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں سے بھی تعمیری تعاون کی توقع ظاہر کرتے ہوئے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو ملک کی ترقی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داری نبھانے کی یاد دہانی کرائی۔ مسٹر ریجیجو کے مطابق میٹنگ میں وزیرِ اعظم نے کہا، “ملک کے مفاد میں لائے گئے بلوں اور قانون سازی کے کام کاج کو پاس کرانے کے ہمارے عزم میں ہم متحد ہیں۔ ہم اپوزیشن سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ بھلے ہی مختلف پارٹیوں کی رائے مختلف ہو، لیکن ملک، اس کے مستقبل اور نوجوانوں کے لیے وہ مل کر کام کریں۔”