اشتیاق ملک
ڈوڈہ// ضلع ڈوڈہ کے بالائی علاقوں میں ہفتہ کے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں عوامی تشویش برقرار رہی۔گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث سب ڈویژن گندوہ بھلیسہ، ٹھاٹھری، پریم نگر اور بھدرواہ کے مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مسلسل بارشوں کے باعث صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔اطلاعات کے مطابق شدید بارشوں سے متعدد دیہی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔کئی مقامات پر سڑکوں کا بڑا حصہ بہہ گیا ہے جبکہ مٹی کے تودے اور پتھر گرنے سے آمد و رفت میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔کئی دیہات کا زمینی رابطہ بھی عارضی طور پر متاثر ہوا، جس کے باعث مقامی آبادی کو روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔مکئی، سبزیوں اور دیگر موسمی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جبکہ کھیتوں میں جمع ہونے والے پانی اور ملبے نے کسانوں کی محنت کو نقصان پہنچایا ہے۔کئی علاقوں میں آبپاشی کے ذرائع، کھالیں اور زرعی زمینیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے کسانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے درجنوں رہائشی و غیر رہائشی مکانات، دکانیں اور نجی گاڑیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔متعدد عمارتوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے، جبکہ لاکھوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ مختلف علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق مجموعی مالی نقصان کافی زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسلسل بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی برقرار ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سیلابی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت دی ہے۔حساس مقامات پر متعلقہ محکمے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فوری سروے کرایا جائے، رابطہ سڑکوں کی بحالی، بجلی و پانی کی فراہمی کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب مالی امداد اور معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ حالیہ قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر سکیں۔