بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر کی 4بڑی آبگاہوں پر کی گئی ایک جامع سائنسی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وادی میں فروخت ہونے والے سنگھاڑے خطرناک حد تک بھاری دھاتیں جذب کر رہے ہیں، جبکہ ڈل جھیل سے حاصل کیے گئے سنگھاڑوں میں کیڈمیم (Cadmium)کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی مقررہ محفوظ حد سے تقریباً 5.5 گنا اور زنک(Zinc) کی مقدار تقریباً 30 گنا زیادہ پائی گئی ہے، جس سے اس خدشے کو تقویت ملی ہے کہ کشمیر کی آبی آلودگی اب براہ راست انسانی خوراک تک پہنچ چکی ہے۔یہ تحقیق جموں و کشمیر کی چار بڑی آبگاہوں میں سنگھاڑوں میں8 بھاری دھاتوں کا موجودگی کے عنوان سے فروری 2026 میں نیچر کے تحقیقی جریدے’سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کشمیر کی آبگاہوں میں بھاری دھاتوں کی آلودگی پر اب تک کی جامع ترین تحقیقات میں شمار ہوتی ہے۔تحقیق کے دوران جھیل ڈل، ہوکرسر ویٹ لینڈ، مانسبل اور جھیل ولر سے حاصل کیے گئے پانی، تلچھٹ اور سنگھاڑے کے پودوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس دوران کیڈمیم، تانبا، کرومیم، کوبالٹ، لوہا، مینگنیز، نکل اور زنک سمیت 8بھاری دھاتوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ تمام پیمانوں پر جھیل ڈل سب سے زیادہ آلودہ ہے، اس کے بعد ہوکرسر ویٹ لینڈ، جھیل مانسبل اور پھر جھیل ولر کا نمبر آتا ہے۔
جھیل ولر میں پانی کی بہتر قدرتی گردش اور نسبتاً کم انسانی مداخلت کے باعث وہاں بھاری دھاتوں کی مقدار سب سے کم ریکارڈ کی گئی۔تحقیق کے مطابق جھیل ڈل حیاتی کیمیائی آکسیجن طلب (بی او ڈی) 16.12 ملی گرام فی لیٹر جبکہ کیمیائی آکسیجن طلب (سی او ڈی) 139.54 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت کے معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جھیل میں شدید نامیاتی آلودگی اور اس کی قدرتی صفائی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔تحقیق میںجموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرینگر شہر میں روزانہ تقریباً 193 ملین لیٹر گھریلو سیوریج نکلتا ہے، جس میں سے 140 ملین لیٹر بغیر کسی صفائی کے براہ راست جھیل ڈل میں شامل ہو جاتا ہے، جو جھیل کی آلودگی کی بڑی وجہ ہے۔تحقیق میں تلچھٹ کا جائزہ بھی لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ چاروں آبی ذخائر کی تہہ میں کیڈمیم، کرومیم، نکل اور لوہے کی مقدار’کینیڈین سیڈیمنٹ کوالٹی‘ گائیڈ لائنز سے زیادہ ہے۔جھیل ڈل کی تلچھٹ میں کیڈمیم کی مقدار 1.05 ملی گرام فی کلوگرام جبکہ تانبے کی مقدار 16.32 ملی گرام فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔محققین کے مطابق تلچھٹ کئی برسوں تک آلودگی کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے اور بعد میں یہی بھاری دھاتیں آبی پودوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنگھاڑے کے پودے کی جڑوں میں بھاری دھاتوں کی مقدار سب سے زیادہ جبکہ تنوں اور پھل میں نسبتاً کم ریکارڈ کی گئی، تاہم ڈل جھیل سے حاصل کیے گئے سنگھاڑوں میںکیڈمیم کی مقدار 0.11 ملی گرام فی کلوگرام پائی گئی، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کی محفوظ حد 0.02 ملی گرام فی کلوگرام ہے۔ اسی طرح زنک کی مقدار 18.21 ملی گرام فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی مجاز حد 0.60 ملی گرام فی کلوگرام مقرر ہے۔تحقیق کے مطابق سنگھاڑے کی جڑیں آلودہ تلچھٹ سے براہ راست بھاری دھاتیں جذب کرتی ہیں۔ اگرچہ پودے کا قدرتی حیاتیاتی نظام ان دھاتوں کی بڑی مقدار کو جڑوں تک محدود رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم کیڈمیم اور زنک جیسی دھاتیں قابلِ خوردنی پھل تک بھی پہنچ جاتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے طریقہ کار کے مطابق کی گئی صحت سے متعلق جانچ میں معلوم ہوا کہ صرف جھیل ڈل سے حاصل کیے گئے سنگھاڑوں میں ٹارگٹ ہیزرڈ کوشنٹ (ٹی ایچ کیو) ایک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا مسلسل استعمال صحت پر غیر سرطانی مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس مانسبل اور ولر سے حاصل کیے گئے سنگھاڑوں میں صحت کیلئے خطرہ نہایت کم پایا گیا۔