ایجنسیز
تہران//امریکہ کے ذریعہ ایران کے کئی شہروں پر تازہ حملہ نے مشرق وسطیٰ میں حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اس حملہ کے جواب میں ایران نے بھی بحرین اور کویت میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریوں میں مصروف ہے، امریکی حملہ سے لوگوں میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایرانیوں کی ناراضگی کا ایک نظارہ مشہد میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں 9 جولائی کو خامنہ کی تدفین ہونے والی ہے۔ مشہد میں لوگوں نے ٹرمپ کے خلاف پوسٹر لگا دئے ہیں، جن میں ان کی موت کا فرمان لکھا گیا ہے۔دراصل امریکہ نے خامنہ ای کی آخری رسومات سے عین قبل مشہد کے 2 بڑے پلوں کو اڑا دیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خامنہ ای کے جنازہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔
ان خبروں کے درمیان مشہد کے ایک ہوٹل کے باہر ٹرمپ کے نام کا پوسٹر دیکھا گیا ہے۔ اس پوسٹر پر لکھا گیا ہے ’وی وِل کِل ٹرمپ‘ (ہم ٹرمپ کو مار ڈالیں گے)۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے خلاف اس سے قبل بھی ایران میں نعرے لگائے گئے تھے۔ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے والی ریلی کے دوران بھی لوگوں نے ٹرمپ کو ہلاک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بلند کیا تھا۔بہرحال، واشنگٹن نے گزشتہ 2 دنوں میں ایران کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں 14 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ایرانی وزارت صحت نے ان اموات کی تصدیق کی ہے، اور ساتھ ہی کہا ہے کہ 78 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج مختلف مقامی اسپتالوں میں چل رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ امریکہ نے ایران کے 5 خطوں میں ہوائی حملے کیے ہیں۔تازہ حملہ کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر دھوکہ دینے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ کا الزام لگا کر حملہ کیا ہے، جبکہ یہ الزام جھوٹا ہے۔‘‘ ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی کارروائی اقوام متحدہ چارٹر اور جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔فکر انگیز بات یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اب یہ جنگ وسعت اختیار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں امریکی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔